جمعہ، 19-جون،2026
جمعہ 1448/01/04هـ (19-06-2026م)

کنٹریکٹ ملازمین کے حوالے سے وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ

19 جون, 2026 10:02

وفاقی آئینی عدالت نے کنٹریکٹ ملازمین سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مستقل نوعیت کے سرکاری کاموں کے لیے کنٹریکٹ پر بھرتیاں آئین کی روح کے مطابق نہیں ہیں۔ ایسے ملازمین کو برابری کے اصول اور بنیادی آئینی حقوق کے تحت تحفظ ملنا چاہیے۔

عدالت نے سابقہ فاٹا میں تعینات ڈسپنسرز کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے صوبائی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ انہیں مستقل ملازم قرار دیا جائے۔ ان ملازمین کی مستقلی کا نوٹیفکیشن ان کی ابتدائی تقرری، یعنی سال 2002 سے جاری کیا جائے۔

یہ فیصلہ جسٹس ارشد حسین نے تحریر کیا۔ چار صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا کہ متعلقہ ملازمین کا کیس وفاقی کابینہ کے 29 اگست 2008 کے فیصلے کے دائرے میں آتا ہے۔ اس فیصلے کے تحت گریڈ ایک سے گریڈ 15 تک کے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ ان ملازمین کو کسی مخصوص منصوبے یا محدود مدت کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود انہیں سال 2010 میں مستقل کرنے کے بجائے ملازمت سے فارغ کر دیا گیا، جو قانون اور انصاف کے اصولوں کے خلاف تھا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ یہ صرف ملازمت کا تنازع نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کا معاملہ بھی ہے۔ روزگار کا تحفظ ہر شہری کے باوقار زندگی گزارنے سے جڑا ہوا ہے۔ اس لیے مستقل نوعیت کی آسامیوں پر عارضی یا کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتی کرنا مناسب نہیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ آئین تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کی ضمانت دیتا ہے۔ سرکاری اداروں میں مستقل آسامیوں پر طویل عرصے تک کنٹریکٹ ملازمین رکھنے کا رجحان قانون کی روح کے مطابق نہیں۔ ماضی میں اعلیٰ عدلیہ بھی بارہا عارضی تقرریوں کی حوصلہ شکنی کر چکی ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔