ہفتہ، 20-جون،2026
ہفتہ 1448/01/05هـ (20-06-2026م)

کتنے لاکھ پر کتنا ٹیکس؟ تنخواہ دار طبقے کیلئے بڑی خبر آگئی

20 جون, 2026 09:45

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے نئے مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے حکومت کی جانب سے پیش کی گئی ٹیکس تجاویز کی منظوری دے دی ہے۔

 اجلاس میں مڈل کلاس پر بڑھتے ہوئے ٹیکس بوجھ پر تفصیلی بات چیت ہوئی، تاہم حکومت نے واضح کر دیا کہ موجودہ معاشی حالات میں مزید ٹیکس ریلیف دینا ممکن نہیں۔

اجلاس کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں جہاں تک گنجائش موجود تھی، وہاں تک ریلیف فراہم کر دیا ہے۔ اس وقت سرکاری مالی وسائل محدود ہیں، اس لیے مزید ٹیکس میں کمی کرنا ممکن نہیں۔ اگر آئندہ بجٹ میں مالی حالات بہتر ہوئے تو مزید ریلیف دینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ سالانہ 22 لاکھ روپے، یعنی تقریباً ایک لاکھ 83 ہزار روپے ماہانہ آمدن رکھنے والے تنخواہ دار افراد کے لیے اس وقت کسی اضافی رعایت کی گنجائش نہیں ہے۔ گزشتہ بجٹ میں اسی آمدن والے طبقے کے لیے ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کی گئی تھی۔ نئے بجٹ میں بھی مختلف ٹیکس سلیبز میں تنخواہ دار طبقے کو کچھ نہ کچھ ریلیف دیا گیا ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ سالانہ ایک کروڑ روپے تک تنخواہ یا آمدن رکھنے والوں پر عائد سپر ٹیکس سرچارج ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ برآمد کنندگان پر بھی سپر ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے سے معیشت کو فائدہ ہوگا اور اس کے مثبت اثرات بالآخر عام ملازمین تک بھی پہنچیں گے۔

اجلاس میں کمیٹی کے کئی ارکان نے مڈل کلاس کے مسائل پر کھل کر بات کی۔ رکن اسمبلی شرمیلا فاروقی نے کہا کہ ایک سے دو لاکھ روپے ماہانہ کمانے والے افراد حقیقی مڈل کلاس ہیں۔ ان پر 11 فیصد ٹیکس کا بوجھ بہت زیادہ ہے، اس لیے حکومت کو اس شرح میں مزید کمی کرنی چاہیے۔

رکن کمیٹی شاہدہ اختر علی نے کہا کہ عام شہری پہلے ہی مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان ہیں۔ ایسے حالات میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا جانا چاہیے۔ حکومت نے اس طبقے کو ریلیف دینے کا وعدہ کیا تھا، جسے پورا کرنا ضروری ہے۔

کمیٹی ارکان کے بار بار مطالبات کے باوجود وزیر خزانہ اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں جتنا ممکن تھا، اتنا ریلیف دیا جا چکا ہے۔

 دوسری جانب سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے بھی تصدیق کی کہ اس وقت حکومت کے پاس مڈل کلاس یا تنخواہ دار طبقے کو مزید ٹیکس چھوٹ دینے کی مالی گنجائش موجود نہیں ہے۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔