سعودی عرب میں مقیم غیرملکی ملازمین کو ڈیڈ لائن دیدی گئی

Important instructions issued for Pakistanis living in Saudi Arabia
سعودی عرب میں کام کرنے والے غیر ملکی ملازمین کے لیے اہم ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی کے تحت کام کرنے والے "قویٰ” پلیٹ فارم نے اعلان کیا ہے کہ جن کارکنوں کے ورک پرمٹ گزشتہ تین ماہ سے زائد عرصے سے تجدید نہ ہونے کی وجہ سے زائد المیعاد ہیں، انہیں یکم جولائی سے اداروں کے ریکارڈ سے خودکار طور پر خارج کیا جانا شروع کر دیا جائے گا۔
قویٰ پلیٹ فارم کے مطابق تمام کمپنیوں اور آجرین کو 30 جون تک مہلت دی گئی ہے۔ اس دوران وہ اپنے غیر ملکی ملازمین کے ورک پرمٹ کی تجدید کروا سکتے ہیں یا اگر ضرورت ہو تو ان کی ملازمت کسی دوسرے ادارے کو منتقل کرنے کے لیے قانونی کارروائی مکمل کر سکتے ہیں۔ مقررہ تاریخ گزرنے کے بعد ایسے ملازمین کا اندراج خودکار نظام کے ذریعے ختم کیا جائے گا۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی کارکن کا ورک پرمٹ تین ماہ سے زیادہ عرصے تک ایکسپائر رہے تو اس کا نام ادارے کے ریکارڈ سے حذف کر دیا جائے گا۔ تاہم اس دوران آجر تمام بقایا سرکاری فیسوں اور مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا پابند ہوگا۔ صرف ریکارڈ سے نام خارج ہونے سے یہ ذمہ داریاں ختم نہیں ہوں گی۔
قویٰ پلیٹ فارم نے کچھ اہم استثنیٰ بھی بیان کیے ہیں۔ اگر کسی غیر ملکی کارکن کا ورک پرمٹ ختم ہو چکا ہو، لیکن اس کا اقامہ کم از کم 180 دن کے لیے مؤثر اور قابلِ استعمال ہو، تو ایسے ملازم کا اندراج فوری طور پر ختم نہیں کیا جائے گا۔ اس صورت میں آجر کو کچھ اضافی وقت مل سکتا ہے تاکہ ضروری قانونی کارروائی مکمل کی جا سکے۔
دوسری جانب اگر اقامے کی مدت 180 دن سے کم رہ گئی ہو تو آجر کے لیے ورک پرمٹ اور اقامہ دونوں کی بروقت تجدید لازمی ہوگی۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو متعلقہ قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور ملازم کا ریکارڈ بھی منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
سعودی حکام نے تمام کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جلد از جلد بقایا ورک پرمٹ فیسیں ادا کریں۔ اس کے ساتھ متاثرہ ملازمین کی قانونی حیثیت بھی درست کریں۔ یہ کام ورک پرمٹ کی تجدید یا ملازمت کی منتقلی کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












