افغانستان پھر خانہ جنگی کے دہانے پر، صوبہ بدخشاں میں باغی تاجک کمانڈر نے فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان حکومت اور ان کے سابق ڈپٹی گورنر و باغی تاجک کمانڈر جمعہ خان فاتح کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے، جس کے باعث خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہو گیا۔
طالبان حکومت کی پالیسیوں اور وسائل پر قبضے کی جنگ نے افغانستان کو ایک بار پھر خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
صوبہ بدخشاں میں طالبان حکومت اور سابق ڈپٹی گورنر جمعہ خان فاتح کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات نے اب ایک سنگین عسکری اور سیاسی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔
معروف افغان جریدے ’افغانستان انٹرنیشنل‘ کے مطابق بدخشاں میں طالبان حکومت کے خلاف باغی تاجک کمانڈر جمعہ خان فاتح کی عسکری صف بندی اور جنگی تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کی افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانوں پر فضائی کارروائی، جماعت الاحرار کے کمانڈر سمیت 29 دہشت گرد ہلاک
کمانڈر جمعہ خان نے اپنے جنگجوؤں کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی عمائدین سے مشاورت بھی تیز کر دی ہے۔ طالبان حکومت کی جانب سے مذاکرات اور نئے عہدے کی پیشکشیں کیے جانے کے باوجود جمعہ خان نے حکومتی ڈھانچے میں دوبارہ واپسی کو سخت دلی سے مسترد کر دیا ہے۔
کمانڈر جمعہ خان نے اپنی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھ کر فوجی اور لاجسٹک دونوں لحاظ سے مکمل طور پر تیار کر دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بدخشاں کا پہاڑی علاقہ طالبان حکومت کے لیے ان کے خلاف فوجی آپریشن کو انتہائی مشکل بنا دے گا۔
طالبان کی پالیسیوں کی وجہ سے اس وقت افغانستان میں کئی اسلحہ بردار تحریکیں شروع ہو چکی ہیں، جن میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ، افغان فریڈم فرنٹ، افغان گرین ٹرینڈ اور جمعہ خان فاتح کی تحریک شامل ہیں۔
طالبان کی طرزِ حکومت اور وسائل پر قبضے کی جنگ نے خود طالبان کو اندرونی طور پر تقسیم کر دیا ہے، اور افغانستان میں بڑھتی ہوئی یہ مسلح اور آزادی پسند تحریکیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









