منگل، 7-جولائی،2026
منگل 1448/01/22هـ (07-07-2026م)

سندھ کو 15 لاکھ ٹن گندم کی کمی کا سامنا، مراد علی شاہ کا ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی کا حکم

07 جولائی, 2026 14:15

وزیراعلیٰ سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی پر سخت نوٹس لیتے ہوئے محکمہ خوراک کو مکمل ڈیجیٹل بنانے اور انٹیگریٹڈ ویٹ مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا۔

وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں گندم کی مارکیٹ، محکمہ خوراک میں اصلاحات اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت اقدامات کی منظوری دی گئی۔

اجلاس کے دوران کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ کو مالی سال 2026-2027 میں 15 لاکھ 90 ہزار ٹن گندم کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت حکومت کے مقرر کردہ امدادی نرخ 3,500 روپے فی 40 کلوگرام سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بھارت کی آبی جارحیت، پاکستان کی تمام سیاسی قیادت سندھ طاس معاہدے کے دفاع کے لیے یک زبان

وزیراعلیٰ سندھ نے فلور ملز، تاجروں اور نجی ذخیرہ اندوزوں کی جانب سے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ کو حکم دیا کہ آٹے کی قیمتوں میں استحکام کے لیے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بلاامتیاز اور سخت ترین کارروائی کی جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ گندم کی ذخیرہ اندوزی کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کی جائے گی اور عوامی مفاد کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

اجلاس میں صوبائی کابینہ نے محکمہ خوراک کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اسے مکمل ڈیجیٹل بنانے کی تجویز پر غور کیا اور صوبے میں انٹیگریٹڈ ویٹ مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا۔

اس نظام کے تحت گندم کی خریداری، ذخیرہ اندوزی، ترسیل اور اجرا کے پورے عمل کو جدید ٹیکنالوجی سے منسلک کیا جائے گا۔ سائنس اینڈ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ نے اس سسٹم کی توثیق کر دی ہے، جبکہ کابینہ نے سندھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (ایس آئی ٹی سی) کو اس منصوبے کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔