زندگی بھر کربلا جانے کی حسرت رکھنے والے علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد عراق میں آخری حاضری

ایران کے شہید رہنما آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا جسدِ مبارک ایران کے شہر قم کے بعد عراق پہنچا دیا گیا، جہاں لاکھوں عقیدت مندوں کی موجودگی میں ان کی آخری حاضری اور الوداعی رسومات جاری ہیں۔
ایران کے شہید ہونے والے انقلابی اور روحانی رہنما آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا جسدِ مبارک ایران کے شہر قم میں تشییع کے مراحل مکمل ہونے کے بعد اب عراق منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل ایران میں 5 روز تک الوداعی رسومات کا سلسلہ جاری رہا، جس کے آخری مرحلے میں قم کے شہر میں لاکھوں افراد نے جنازے میں شرکت کی۔
اسے جدید تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں سوگواروں کے سمندر نے اسلامی انقلاب کے اصولوں پر قائم رہنے کا عزم دہرایا۔
تابوتوں کو مسجدِ جمکران سے حضرت معصومہ کے مزار تک لایا گیا، جہاں عوام سید مجتبیٰ کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔
ایران کے سرکاری حکام کے مطابق لاکھوں کی تعداد میں عوام کی شرکت نے دشمنوں کی ان سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے، جو نظام کو اندر سے کمزور دیکھنا چاہتے تھے۔
نجف انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر شہید رہنما کے تابوت لانے والے طیارے کا سرکاری استقبال کیا گیا، جہاں ایران کے صدر مسعود پزیشکیان اور عراق کے وزیرِ اعظم سمیت دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں : شہید علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے پیچھے چھپی مذہبی، سیاسی اور نظریاتی اہمیت
عراق کی وہی مقدس سرزمین جہاں مولائے کائنات حضرت علی، امام حسین اور حضرت عباس علمدار کے روضے موجود ہیں، اب اس شہید رہنما کے آخری استقبال کی میزبان بنی ہے۔
آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنی پوری زندگی میں صرف 2 بار ہی کربلائے معلیٰ کی زیارت کی تھی۔ ایک بار وہ بچپن میں اپنے والد آیت اللہ سید جواد خامنہ ای کے ساتھ عراق گئے تھے اور دوسری بار اپنی جوانی کے دور میں انہوں نے نجف اور کربلا میں کچھ عرصہ قیام کیا تھا۔
اس کے بعد سیکیورٹی خطرات یا سیاسی وجوہات کی بنا پر وہ اپنی شدید خواہش اور بار بار اظہارِ حسرت کے باوجود 40 سال تک دوبارہ نجف اور کربلا کی سرزمین پر نہ جا سکے۔
ان کے اپنے بیانات کے مطابق امام حسین کے روضے کی زیارت ان کے دل کی ایک گہری حسرت تھی، جو زندگی بھر ان کے ساتھ رہی۔
اب ان کی یہ آخری خواہش ان کی شہادت کے بعد پوری ہوئی ہے اور ان کا جسدِ مبارک اپنے جد مولا علی اور امام حسین کی بارگاہ میں آخری حاضری کے لیے پہنچا ہے۔
جب سید علی خامنہ ای کو بمباری کر کے شہید کیا گیا تھا تو اس حملے میں ان کا سر تن سے جدا ہو گیا تھا اور جسم کے ٹکڑے ہوا میں بکھر گئے تھے، اور وہ اسی حالت میں اپنے مولا کے سامنے پیش ہو رہے ہیں کہ انہوں نے باطل کے آگے سر جھکانے کے بجائے سر کٹانے کو ترجیح دی۔
شہید کے جسدِ مبارک کی نمازِ جنازہ نجف اشرف میں نمازِ فجر کے وقت ادا کی گئی، جس کے بعد ان کا جسدِ مبارک کربلائے معلیٰ لے جایا گیا۔
اس وقت نجف اور کربلا میں لاکھوں عقیدت مند امام علی اور امام حسین کے روضوں پر حاضری کے ساتھ شہید رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہیں اور روضہ مولا علی، امام حسین اور روضہ ابوالفضل عباس پر ان کے جسدِ مبارک کی آخری حاضری کا سلسلہ جاری ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











