بدھ، 8-جولائی،2026
بدھ 1448/01/23هـ (08-07-2026م)

میرے خیال میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ اب ختم ہو چکا، امریکی صدر ٹرمپ

08 جولائی, 2026 15:06

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران ایران کے ساتھ جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب تہران کے ساتھ مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے خیال میں ایران کے ساتھ جاری موجودہ جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہو چکا ہے اور وہ اب تہران کے ساتھ مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق گزشتہ رات امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تازہ ترین حملوں کے بعد یہ معاہدہ ناکام ہو گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے اسے بدعنوان، پرتشدد اور بیمار لوگوں کا ٹولہ قرار دیا اور عزم ظاہر کیا کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کر دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر ہمارا مؤقف واضح ہے؛ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے معاملے پر اب ہمیں اپنا کام کرنا ہوگا، ان کی تمام قیادت کو ختم کردیا، اب وہاں نئے لوگ ہیں۔ اپنی پہلی صدارتی مدت میں قاسم سلیمانی کو ہدف بنایا، وہ بڑا کارنامہ تھا۔ ایران نے ہمارے ہزاروں فوجیوں کی جانیں لی ہیں وہ ہزاروں معصوم افراد کے خون کا ذمے دار ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بدمعاشی اور زبردستی کا دور ختم ہو چکا، ایران کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا، قالیباف

امریکی صدر نے نیٹو اجلاس کے دوران یورپی اتحادیوں پر بھی اپنے غصے کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہ دینے پر نیٹو ممالک سے سخت ناخوش ہیں۔

ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اتحادیوں کا امتحان لیا، جس میں اٹلی، جرمنی اور فرانس نے امریکی مدد کرنے سے صاف انکار کر دیا، جبکہ برطانیہ نے بھی اپنے تمام فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔

اگرچہ نیٹو چیف مارک رٹے نے وضاحت کی کہ یورپ سے 5 ہزار طیارے امریکی آپریشنز کی مدد کے لیے اڑان بھر رہے ہیں، تاہم ٹرمپ نے اسے ناکافی قرار دیا۔

صدر ٹرمپ نے اس بات پر بھی مایوسی کا اظہار کیا کہ امریکہ دفاع پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے لیکن یورپی ممالک ضرورت کے وقت ساتھ نہیں دیتے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تہران کے ساتھ تفصیلی مذاکرات اب صرف اسی صورت میں ممکن ہیں جب ایران خود مذاکرات کی میز پر واپس آئے گا، کیونکہ ایرانی حکام میڈیا کے سامنے معاہدوں کو غلط رنگ دیتے ہیں, جس کی اب کوئی گنجائش نہیں ہے۔

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز میں 3 تجارتی جہازوں پر حملے کے بعد امریکہ نے ایرانی اہداف پر بمباری کی تھی، جس کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔