جمعہ، 10-جولائی،2026
جمعہ 1448/01/25هـ (10-07-2026م)

ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اب بھی پرامید، مزید حملوں سے گریز

10 جولائی, 2026 09:11

امریکہ اور ایران کے درمیان شدید حملوں کے باوجود، امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے جمعرات کو ایران پر براہِ راست حملے کرنے سے گریز کیا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایکسپیوس نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ تنازع کا پرامن حل نکالنے کے لیے اب بھی پرعزم ہے اور جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے تکنیکی سطح پر بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران میں 2 فوجی ٹھکانوں پر فضائی حملے، امریکہ و اسرائیل کا ملوث ہونے سے انکار

بدھ کے روز قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ثالثوں نے امریکہ اور ایران کے اعلیٰ حکام کے ساتھ متعدد ٹیلیفونک رابطے کیے، تاکہ دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔

ایک علاقائی سفارتی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ اس وقت وسیع پیمانے پر سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ پہلے دونوں فریقین کو حملے روکنے پر راضی کیا جائے اور اس کے بعد ان کی تکنیکی ٹیموں کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ طے کی جا سکے۔

وائٹ ہاؤس سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق، امریکی حکام ابھی بھی اس بات چیت کو آگے بڑھانے کے حق میں ہیں اور فوجی طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی راستے کو موقع دینا چاہتے ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔