ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول نہیں کرتا، بحری نقل و حرکت آزادانہ جاری ہے، امریکی فوج

امریکی سینٹ کام نے ایرانی سرکاری میڈیا کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا، جن میں کہا گیا تھا کہ بحری جہاز صرف ایران کے منظور کردہ راستوں سے ہی گزر سکتے ہیں۔
امریکی سینٹ کام نے بیان میں کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول نہیں کرتا اور ایرانی سرکاری میڈیا کا یہ دعویٰ بلکل غلط ہے کہ بحری جہاز صرف ایران کے منظور کردہ راستے سے ہی گزر رہے ہیں۔
سینٹ کام کے مطابق، ایران آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت یا ان کے راستوں کا تعین کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا، بلکہ اس اہم ترین آبی گزرگاہ میں بحری ٹریفک کی نقل و حرکت مکمل طور پر عالمی قوانین کے تحت آزادانہ طور پر جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ اور ایران تنازع کا منصفانہ حل نکالا جائے، عالمی معیشت متاثر ہو رہی ہے، روس
امریکی عسکری کمانڈ سینٹ کام نے اپنے اقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مئی کے مہینے سے لے کر اب تک انہوں نے 800 سے زائد تجارتی اور مال بردار جہازوں کی محفوظ آمدورفت میں بھرپور معاونت فراہم کی ہے، تاکہ انہیں کسی بھی ایرانی خطرے سے بچایا جا سکے۔
سینٹ کام کا مزید کہنا تھا کہ یہ تمام بحری جہاز عالمی منڈی کے لیے تقریباً 38 کروڑ بیرل خام تیل لے کر آبنائے ہرمز کے راستے کامیابی سے گزرے ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس راستے پر کسی ایک ملک کی اجارہ داری قائم نہیں ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











