غیر قانونی افغان طالبان رجیم کے وزیر کا بھارت میں شرمناک اور مضحکہ خیز بیان؛ بھارت اور افغانستان کا ڈی این اے ایک قرار دیدیا

غیر قانونی افغان طالبان رجیم کے وزیرِ زراعت مولوی عطا اللہ عمری کے بھارت دورے کے دوران دیے گئے ایک بیان نے خطے کے سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔
نئی دہلی میں گفتگو کرتے ہوئے افغان وزیر نے کہا کہ بھارت آمد پر انہیں کسی غیر ملک میں ہونے کا احساس نہیں ہوا بلکہ انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اپنے ہی ملک میں موجود ہوں۔
انہوں نے افغانستان اور بھارت کے درمیان تاریخی و ثقافتی روابط کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں ممالک کو ایک ہی "ڈی این اے” سے تعبیر کیا۔
افغان وزیر کے اس بیان پر پاکستان سمیت خطے کے مختلف سیاسی و تجزیاتی حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات افغانستان کی موجودہ خارجہ پالیسی اور خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی ترجیحات کے حوالے سے کئی سوالات اٹھاتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق افغانستان اور بھارت کے تعلقات میں حالیہ پیش رفت جنوبی ایشیا کی علاقائی سیاست پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
بعض ماہرین کا مؤقف ہے کہ کابل اور نئی دہلی کے درمیان بڑھتے روابط پاکستان کے لیے سیکیورٹی اور سفارتی چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں دہشت گردی اور سرحدی معاملات پہلے ہی حساس نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔
دوسری جانب ناقدین نے افغان عبوری حکومت کی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلم دنیا کے مختلف تنازعات، خصوصاً فلسطین اور کشمیر جیسے معاملات پر افغان حکومت کے مؤقف اور عملی اقدامات میں واضح تضاد نظر آتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق افغان وزیر کا بیان صرف ثقافتی مماثلت تک محدود نہیں بلکہ یہ افغانستان اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی و سفارتی روابط کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ تاہم خطے کے ممالک اس پیش رفت کو اپنے اپنے قومی مفادات اور علاقائی سلامتی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










