ہفتہ، 11-جولائی،2026
ہفتہ 1448/01/26هـ (11-07-2026م)

سید علی خمینی: "امریکا سے امن کے لیے مذاکرات کرنے والا غدار ہے، عوام کو انتہا پسند قرار دینا بھی درست نہیں”

11 جولائی, 2026 17:54

امام خمینیؒ کے پوتے سید علی خمینی نے امریکا کے ساتھ مذاکرات، داخلی سیاسی صورتحال اور عوام کے کردار پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے حکومت کے بعض عہدیداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ "جو شخص امریکا کے ساتھ امن حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کرنا چاہتا ہے، وہ غدار ہے، جبکہ جو ان کے لیے دوستی کا پیغام بھیجتا ہے، اس کا منہ ناپاک ہے۔”

قم میں ایک تعزیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید علی خمینی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات آج یا کل کے نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کی بنیاد اس وقت پڑی جب امریکا نے ایران میں بغاوت (کُو) کی حمایت کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ واقعات، جن میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کا حوالہ دیا، نے ایرانی قوم کے دلوں میں ایسی دشمنی پیدا کر دی ہے جو ان کے بقول کبھی ختم نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات نے ایران اور امریکا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔

حکومتی عہدیداروں پر تنقید

سید علی خمینی نے اپنے خطاب میں حکومتی عہدیداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو صرف مشکل وقت میں یاد کرنا اور حالات معمول پر آنے کے بعد انہی لوگوں کو "انتہا پسند” یا "شدت پسند” قرار دینا قابلِ قبول نہیں۔

انہوں نے کہا:

"یہ ہرگز جائز نہیں کہ بحران کے وقت عوام پر انحصار کیا جائے، لیکن جب حالات معمول پر آ جائیں تو انہی لوگوں کو سخت گیر اور انتہا پسند کہا جائے۔ ہمیں عوام کے مطالبات کو سننا چاہیے۔”

ان کا کہنا تھا کہ عوام نے مختلف مواقع پر ملک کے ساتھ اپنی وابستگی اور حمایت کا اظہار کیا ہے، لہٰذا ریاستی اداروں اور حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی توقعات اور مطالبات کو سنجیدگی سے لیں۔

امریکا سے مذاکرات پر سخت مؤقف

سید علی خمینی نے کہا کہ ایران کے بنیادی اصول، قومی خودمختاری اور انقلابِ اسلامی کے نظریات کسی بھی سیاسی مفاہمت یا بیرونی دباؤ کے تحت تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔ ان کے مطابق امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایران کا مؤقف تاریخی تجربات کی بنیاد پر قائم ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران کی داخلی و خارجی پالیسیوں پر مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔

اہم نکات
سید علی خمینی نے امریکا سے امن کے لیے مذاکرات کی مخالفت کی۔
امریکا کو دوستی کا پیغام بھیجنے والوں پر سخت تنقید کی۔
ایران اور امریکا کے تنازع کی جڑ 1953 کے ایرانی تختہ الٹنے کے واقعے سے جوڑی۔
حالیہ واقعات کے بعد امریکا کے خلاف دشمنی میں اضافے کا دعویٰ کیا۔
حکومتی عہدیداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بحران کے بعد عوام کو "انتہا پسند” قرار دینا درست نہیں۔
عوامی مطالبات کو سننے اور ان کا احترام کرنے پر زور دیا۔

نوٹ: اس خبر میں بیان کردہ سیاسی مؤقف اور دعوے سید علی خمینی کے خطاب سے منسوب ہیں اور انہیں اسی تناظر میں نقل کیا گیا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔