امریکہ اور ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

آبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد کا اچانک اضافہ ہو گیا اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں مندی کا شکار ہو گئیں۔
آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک آبی راستے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان شروع ہونے والی تازہ ترین جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔
پیر کے روز عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 4 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ستمبر کی سپلائی کے لیے تیل کی قیمت 79.29 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 22 جون کے بعد سب سے زیادہ قیمت ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان گزشتہ ماہ ہونے والے امن معاہدے کے بعد بحری جہازوں کی آمدورفت کچھ بہتر ہوئی تھی، لیکن اب دوبارہ جنگ شروع ہونے سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں ریکارڈ کمی آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے خلاف پہلی بار خودکش بحری اور فضائی ڈرونز کا استعمال کیا، امریکی افواج
بحری انٹیلی جنس پلیٹ فارم ونڈورڈ کے مطابق جمعرات اور جمعہ کے درمیان صرف 6 بحری جہاز وہاں سے گزرے، جبکہ عام حالات میں یہاں سے روزانہ 130 سے زائد جہاز تیل لے کر گزرتے ہیں۔
سڈنی کے معاشی تجزیہ کار مکیش سہدیو کے مطابق اگست اور ستمبر کے مہینوں میں تیل کی قیمتیں 70 ڈالر سے اوپر رہنے کا امکان ہے کیونکہ خریداروں نے مشرق وسطیٰ پر اپنا انحصار کم کرنا شروع کر دیا ہے۔
ایک اور مارکیٹ تجزیہ کار فیبین یپ کا کہنا ہے کہ قیمتیں برقرار رہیں گی لیکن پرانی جنگ کی طرح بہت زیادہ اوپر جانے کا چانس کم ہے کیونکہ عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی پہلے ہی وافر مقدار میں موجود ہے۔
اس جنگی صورتحال کی وجہ سے ایشیا کی بڑی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی گئی، جہاں جاپان کا نکی انڈیکس ایک فیصد اور جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 5 فیصد سے زیادہ نیچے گر گیا۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











