نیٹ فلکس پر پاکستانی ڈراموں کی نمائش میں رکاوٹ بھارتی لابی ہے یا ڈراموں کا معیار؟

وفاقی حکومت نے نیٹ فلکس اور ایمازون پرائم پر پاکستانی ڈراموں کی نمائش کے لیے بات چیت تیز کر دی ہے تاکہ ملکی ثقافت کو دنیا بھر میں پیش کیا جا سکے۔
پاکستان کی وفاقی حکومت نے عالمی اسٹریمنگ ویب سائٹس جیسے نیٹ فلکس اور ایمازون پرائم پر پاکستانی ڈراموں اور فلموں کی نمائش کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق، حکومت اس وقت ان عالمی کمپنیوں کے ساتھ ان کے علاقائی فریم ورک میں تبدیلی کے لیے مذاکرات کر رہی ہے تاکہ پاکستانی تخلیق کاروں کو بین الاقوامی سطح پر ان کا جائز حق مل سکے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ اقدامات ملکی برآمدات بڑھانے کے لیے بنائے گئے ‘اُڑان پاکستان’ پروگرام کا حصہ ہیں اور حکومت ایک متوازی حکمت عملی کے تحت پاکستان کا اپنا قومی او ٹی ٹی پلیٹ فارم بھی تیار کرنا چاہتی ہے۔
پے پال جیسے بین الاقوامی ادائیگیوں کے نظام کی عدم موجودگی اور سخت ریگولیٹری قوانین کی وجہ سے نیٹ فلکس جیسی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے کتراتی رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : نیٹ فلکس پر بچوں کی جاسوسی کا الزام، ٹیکساس کے اٹارنی جنرل نے مقدمہ کر دیا
اس حوالے سے شوبز شخصیات کی رائے منقسم ہے۔ سابق نگران وفاقی وزیر برائے ثقافت جمال شاہ کا کہنا ہے کہ نیٹ فلکس پر اس وقت بھارتی لابی کا گہرا اثر موجود ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے مواد کے معیار پر بھی توجہ دینی ہوگی۔
ان کا ماننا ہے کہ پاکستان میں بننے والے صرف 5 فیصد ڈرامے ہی اس معیار کے ہیں، جو نیٹ فلکس پر پیش کیے جا سکیں۔ ہمیں اپنی سنیماٹوگرافی اور اداکاری کو بہتر کرنا ہوگا۔
دوسری جانب، میڈیا تجزیہ کار ہارون شعیب کا کہنا ہے کہ مسئلہ ڈراموں کے معیار کا نہیں بلکہ سیاست کا ہے کیونکہ نیٹ فلکس کے دفاتر پڑوسی ملک میں واقع ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی ڈراموں کو دنیا بھر میں ایک ارب کے قریب اردو بولنے والے پہلے ہی دیکھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے پروڈیوسرز کو مشورہ دیا کہ وہ کہانیوں میں گہرائی لائیں اور طویل مدتی پلاننگ کے ساتھ کام کریں تاکہ جنوبی کوریا کی طرح پاکستانی ثقافت کو بھی دنیا بھر میں سراہا جائے۔
Catch all the انٹرٹینمنٹ News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












