جمعرات، 23-جولائی،2026
جمعرات 1448/02/09هـ (23-07-2026م)

اینڈرائیڈ 16 میں ایک نئی سیکیورٹی خامی سامنے آگئی

21 جولائی, 2026 10:22

اینڈرائیڈ 16 استعمال کرنے والے صارفین کے لیے ایک اہم سیکیورٹی مسئلہ سامنے آیا ہے۔

 رپورٹس کے مطابق بعض مخصوص حالات میں اسمارٹ فون کی لاک اسکرین کو بائی پاس کیا جا سکتا ہے۔ اس خامی کے باعث غیر مجاز شخص کو فون میں موجود بعض حساس فیچرز تک رسائی ملنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

گوگل نے اس مسئلے سے آگاہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔ کمپنی کے مطابق سیکیورٹی خامی کو دور کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک سیکیورٹی اپ ڈیٹ بھی تیار کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے متاثرہ ڈیوائسز کو محفوظ بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق یہ مسئلہ جیمینائی کے لاک اسکرین فیچر سے متعلق ہے۔ عام طور پر اگر صارف نے لاک اسکرین سے میسجنگ یا واٹس ایپ جیسی ایپس تک جیمینائی کی رسائی محدود کر رکھی ہو تو ان فیچرز کو استعمال کرنے کے لیے فون کا پن یا دیگر تصدیقی طریقہ درکار ہوتا ہے۔

تاہم سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ایک خاص طریقہ اختیار کرنے سے بعض حالات میں یہ حفاظتی مرحلہ متاثر ہو سکتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ’Add Attachment‘ اور ’Continue‘ کے بٹن ایک مخصوص انداز میں بیک وقت دبانے سے کچھ ڈیوائسز پر پن کی تصدیق کو نظرانداز کرنے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں لاک اسکرین کی سیکیورٹی متاثر ہو سکتی ہے۔

اس خامی کے حوالے سے سامنے آنے والی معلومات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر حملہ آور فون کے لاک ہونے کی حالت میں بعض پیغامات بھیج سکتا ہے۔ ایک ویڈیو مظاہرے میں یہ بھی دکھایا گیا کہ جیمینائی کے لیے پہلے سے محدود کی گئی واٹس ایپ تک رسائی دوبارہ فعال ہونے کا امکان موجود ہے۔

اطلاعات کے مطابق گوگل کو اس سیکیورٹی مسئلے کا علم مئی سے ہے۔ ابتدائی طور پر یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ خامی صرف گوگل پکسل فونز تک محدود ہے۔ تاہم بعد میں سامنے آنے والی معلومات سے معلوم ہوا کہ دیگر اینڈرائیڈ 16 ڈیوائسز بھی ممکنہ طور پر اس مسئلے سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ البتہ فی الحال یہ واضح نہیں کہ کن موبائل برانڈز اور اینڈرائیڈ 16 کے کن ورژنز میں یہ خامی موجود ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اس طرح کی خامیوں کو عام طور پر ’آتھنٹیکیشن بائی پاس‘ یا ’لاک اسکرین بائی پاس‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں کسی ڈیوائس کے حفاظتی تصدیقی عمل کو مخصوص تکنیکی طریقے سے نظرانداز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر یہ مسئلہ کسی ڈیوائس میں موجود ہو تو صارف کی نجی معلومات اور فون کے کچھ فیچرز کو غیر مجاز رسائی کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو اس صورتحال میں گھبرانے کے بجائے احتیاطی اقدامات کرنے چاہئیں۔ خاص طور پر فون کو غیر ضروری طور پر کسی دوسرے شخص کے حوالے کرنے سے گریز کیا جائے اور ڈیوائس میں دستیاب سیکیورٹی فیچرز کو فعال رکھا جائے۔

صارفین کے لیے سب سے اہم مشورہ یہ ہے کہ گوگل کی جانب سے سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری ہوتے ہی اپنے فون کو اپ ڈیٹ کریں۔ اس کے علاوہ موبائل میں موجود سیکیورٹی اپ ڈیٹس کو باقاعدگی سے چیک کرنا بھی ضروری ہے۔ اس طرح ممکنہ خطرات سے بچاؤ میں مدد مل سکتی ہے۔

گوگل کی جانب سے مکمل تفصیلات اور متاثرہ ڈیوائسز کی فہرست سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔ اس وقت اینڈرائیڈ 16 صارفین کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے فون کو جدید ترین سیکیورٹی اپ ڈیٹس کے ساتھ اپ ٹو ڈیٹ رکھیں اور کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی صورت میں محتاط رہیں۔

Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔