جمعرات، 23-جولائی،2026
جمعرات 1448/02/09هـ (23-07-2026م)

بنوں سے فتنہ الخوارج کا سہولت کار مفتی ظفریاب گرفتار، بھتہ خوری کیلئے غیر شرعی فتوؤں کا انکشاف

22 جولائی, 2026 14:09

بنوں میں سیکیورٹی اداروں نے فتنہ الخوارج کے ایک اہم سہولت کار مفتی ظفریاب کو گرفتار کر لیا، جس نے انکشاف کیا ہے کہ دہشت گرد اس سے من پسند اور غیر شرعی فتوے حاصل کرتے تھے۔

سیکیورٹی اداروں نے دہشت گردی اور بھتہ خوری کے ایک بڑے نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے اہم سہولت کار خود ساختہ مولوی ظفریاب کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار سہولت کار کا تعلق جامع نظام العلوم بنوں اور جمعیت علمائے اسلام کے ایک گروپ سے بتایا جاتا ہے۔

ملزم نے ابتدائی تحقیقات میں انکشاف کیا ہے کہ اس نے 8 سالہ درسِ نظامی جامع نظام العلوم بنوں سے حاصل کی، جبکہ 3 سالہ تخصص فی الفقہ المركز اسلامی غوریوالہ سے کیا۔ ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ فتنہ الخوارج کے کمانڈر حکمت روشان کا سرگرم ساتھی اور گل بہادر شوریٰ کا باقاعدہ رکن رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر عالمی تشویش میں اضافہ

گرفتار مفتی ظفریاب نے اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ خارجی کمانڈر جہاد کے نام پر سرمایہ داروں اور امیر لوگوں سے بھتہ وصول کرنے اور انہیں ڈرانے دھمکانے کے لیے اس سے غیر شرعی اور من پسند فتوے حاصل کرتے تھے۔ اس کام کے لیے خارجی کمانڈر حکمت روشان اسے اور دیگر افراد کو مالی فوائد، عہدوں اور مختلف قسم کی لالچ دیا کرتا تھا۔

ملزم نے یہ بھی قبول کیا کہ فتنہ الخوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ عناصر غیر اسلامی نظریات کے تحت بے گناہ مسلمانوں کے قتل کو بھی جائز قرار دیتے ہیں۔

اس اہم گرفتاری کے بعد غیر قانونی مدارس کو نیشنل ایکشن پلان کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ریلیجیس ایجوکیشن کے دائرہ کار میں لانے اور تمام غیر قانونی مدارس سمیت ان سے منسلک سیاسی جماعتوں کی شفاف اسکرٹنی کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے تاکہ شدت پسندی کا تدارک کیا جا سکے۔

وفاق المدارس العربیہ سمیت پاکستان کے تمام دینی مدارس کی نمائندہ تنظیموں کے درمیان غیر قانونی مدارس کی رجسٹریشن کا معاہدہ 2019 سے نافذ العمل ہے، جس پر سختی سے عمل کرانے کا مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔