افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر عالمی تشویش میں اضافہ

Afghanistan a safe haven for terrorists, Pakistan’s stance wins global recognition once again
افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیوں پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی کے قائم مقام سربراہ الیگزینڈر زوییف نے افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
الیگزینڈر زوییف کے مطابق افغانستان کئی دہائیوں سے مختلف دہشت گرد تنظیموں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے، جہاں متعدد گروہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے داعش خراسان اور فتنہ الخوارج کو افغانستان میں سب سے زیادہ متحرک دہشت گرد تنظیموں میں شامل قرار دیا، جبکہ القاعدہ کی موجودگی کو بھی برقرار بتایا۔
اقوام متحدہ کے عہدیدار کے مطابق القاعدہ اور طالبان حکومت کے درمیان روابط کے حوالے سے بھی خدشات موجود ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کی عالمی سطح پر ایک بار پھر تائید ہوئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کے زیرِ انتظام افغانستان میں عالمی دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مسئلہ بدستور موجود ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مغربی ممالک کو افغانستان سے دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا ہوگا، کیونکہ خطے میں امن و سلامتی کے لیے دہشت گرد نیٹ ورکس ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیاں علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











