فرانسیسی پارلیمنٹ نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگادی

فرانسیسی پارلیمنٹ نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر قانون سازی کرتے ہوئے پابندی کی منظوری دے دی ہے، جسے صدر نے بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔
فرانسیسی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی پارلیمنٹ نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے قانون کی منظوری دے دی ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بچوں اور نوجوانوں کے تحفظ کے معاملے میں فرانس یورپ میں سب سے آگے ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بچوں کے لیے سوشل میڈیا کا غیر محفوظ استعمال شدید خطرہ بن گیا
رپورٹ کے مطابق بچوں اور نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کی وجہ سے خود اعتمادی میں کمی، منشیات کے رجحان اور خودکشی پر مبنی خطرناک مواد کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
فرانسیسی رکن پارلیمنٹ لور ملر نے اس حوالے سے کہا کہ ہم بچوں کا بچپن بازار اور نوجوان نسل کو الگورتھمز کے کھیل کا میدان نہیں بننے دیں گے، اس لیے ان کا تحفظ ضروری ہے۔ آسٹریلیا، فرانس، امریکہ اور چین سمیت متعدد ممالک بچوں کے لیے محدود استعمال کے قوانین نافذ کر چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی عمر میں اسکرین کا زیادہ استعمال بچوں کی ذہنی، سماجی اور جسمانی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے اور آن لائن ایپس ان کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں بھی بچوں کو محفوظ ڈیجیٹل ماحول دینے کے لیے قانون سازی اور والدین کی رہنمائی کی اشد ضرورت ہے۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












