بھارت میں غیر ملکی فنڈنگ قوانین میں ترمیم، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کا ترامیم واپس لینے کا مطالبہ

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت 8 انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت میں فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ میں ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کردیا
بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانے کے لیے مودی حکومت کی جانب سے غیر ملکی فنڈنگ قوانین میں کی گئی ترامیم کے خلاف عالمی سطح پر احتجاج شروع ہو گیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت 8 اہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی حالیہ ترامیم کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کردہ نئی رپورٹ کے مطابق بھارت کے یہ نئے قوانین سول سوسائٹی پر سخت نگرانی قائم کر رہے ہیں اور شہریوں کے تنظیم سازی کی آزادی کے بنیادی حق کو دبا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مقبوضہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں، امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے، پاکستان
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان قوانین کی وجہ سے انسانی حقوق، پالیسی تحقیق، عوامی شعور، قانونی اصلاحات اور حکومتی احتساب پر کام کرنے والی ہزاروں این جی اوز شدید متاثر ہوں گی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت کے یہ اقدامات عالمی اصولوں کے برعکس ہیں، جن کے ذریعے غیر سرکاری تنظیموں پر غیر ضروری اور حد سے زیادہ سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ 10 سالوں میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498 تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کے انہیں کام کرنے سے روک چکی ہے۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016 میں این جی اوز پر عائد ان پابندیوں اور قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت ان قوانین کو مالیاتی شفافیت کے نام پر استعمال کر کے دراصل اپنے خلاف اٹھنے والی تنقیدی آوازوں اور سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












