بدخشان افغان طالبان رجیم کے ہاتھ سے نکلنے لگا!!! مزاحمتی کارروائیوں میں مسلسل شدت؛ 21 طالبان فوجی ہلاک

افغانستان میں افغان طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گیا ہے، جہاں افغان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) نے بدخشان کے مختلف علاقوں میں طالبان فورسز کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشان کے ضلع زیبک میں افغان فریڈم فرنٹ کی کارروائیوں کے نتیجے میں طالبان فورسز کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جھڑپوں کے دوران متعدد طالبان اہلکار مارے گئے، جبکہ کئی اہلکار زخمی ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق کارروائیوں کے دوران طالبان کے متعدد مقامی کمانڈرز بھی مارے گئے، جن میں سینئر سرحدی کمانڈر فریداللہ وحدت بھی شامل ہیں۔ افغان فریڈم فرنٹ نے علاقے میں طالبان کی کئی چوکیوں اور عسکری پوزیشنوں پر قبضہ کرنے کی اطلاعات بھی دی ہیں۔
افغان میڈیا کے مطابق اے ایف ایف کے جنگجوؤں نے طالبان کے فوجی سازوسامان، اسلحہ اور گولہ بارود پر بھی قبضہ کر لیا ہے، جبکہ طالبان اہلکاروں کی جانب سے علاقے سے پسپائی اختیار کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق افغان فریڈم فرنٹ نے بدخشان کے ضلع درایم میں طالبان ہیڈکوارٹر کو بھی راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا، جبکہ ضلع زیبک میں ہونے والی جھڑپوں کی طالبان ترجمان نوراللہ نظری نے بھی تصدیق کی ہے۔
افغان فریڈم فرنٹ کے سربراہ داؤد ناجی کا کہنا ہے کہ طالبان کے خلاف مزاحمت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
بدخشان میں جاری کشیدگی نے افغان طالبان رجیم کے لیے سیکیورٹی چیلنجز میں اضافہ کر دیا ہے، جہاں مختلف مزاحمتی گروہ طالبان حکومت کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











