بی جے پی نے کاکروچ جنتا پارٹی کے آگے گھٹنے ٹیک دیے، بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی

Indian Education Minister Dharmendra Pradhan resigns amid massive student protests over NEET leak fiasco
بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پرادھان نے استعفیٰ دے دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جسے وزیراعظم نریندر مودی نے فوری طور پر منظور کر لیا۔ دھرمیندر پردھان نے سوشل میڈیا پر اپنے استعفے کا متن بھی شیئر کیا، جس میں انہوں نے ملک کے نوجوانوں، طلبہ اور تعلیمی نظام سے متعلق اپنے مؤقف کی وضاحت کی۔
اپنے استعفے میں دھرمیندر پردھان نے کہا کہ وہ گزشتہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے سے تعلیم کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں۔ انہوں نے بطور طالب علم، استاد اور تعلیمی اصلاحات کے لیے کام کیا۔ ایک مضبوط اور جامع تعلیمی نظام ہی مضبوط قوم کی بنیاد بن سکتا ہے۔ انہوں نے بھارتی نوجوانوں کی خواہشات اور جائز مطالبات کا بھی احترام کرنے کا اظہار کیا۔
دھرمیندر پردھان نے اپنے استعفے میں NEET-UG امتحان میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ بھارتی حکومت نے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو (CBI) کے سپرد کیں۔ امتحان سے متعلق پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد دوبارہ امتحان اور نتائج کے حوالے سے بھی اقدامات کیے گئے۔
مستعفی وزیر تعلیم نے کہا کہ ان کی کوشش رہی کہ کسی بھی قابل طالب علم کا مستقبل امتحانی بے ضابطگیوں یا مبینہ امتحان مافیا کی وجہ سے متاثر نہ ہو۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ کسی طالب علم کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔ NEET-UG کے نتائج میں غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے کئی باصلاحیت طلبہ نے بھی کامیابی حاصل کی۔
دھرمیندر پردھان نے کہا کہ وہ جمہوری نظام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں اور ملک کے نوجوانوں کے خوابوں اور مستقبل کو انتہائی اہم سمجھتے ہیں۔ بھارت کی نوجوان نسل ملک کی اصل طاقت ہے اور اسے کسی بھی قسم کے فریب یا تنازع میں الجھنے کے بجائے اپنی تعلیم اور مستقبل کی تعمیر پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات سے ملک دشمن عناصر کو فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں ملنا چاہیے۔ ملک کا اتحاد برقرار رہنا ضروری ہے اور کسی بھی طالب علم کا مستقبل قانونی یا سیاسی پیچیدگیوں کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ انہی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے وزیراعظم کو اپنا استعفیٰ پیش کیا۔
دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان نے دھرمیندر پردھان کے استعفے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر تعلیم نے استعفیٰ دیا ہے تو یہ ایک اچھی پیش رفت ہے، تاہم حکومت کے ساتھ ابھی تک کسی قسم کا باضابطہ رابطہ نہیں ہوا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے استعفے نہ دینے کے مؤقف کے باوجود احتجاج کے بعد وزیر تعلیم کا استعفیٰ سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ امتحانی پرچوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور طلبہ کے مسائل کے خلاف نئی دہلی کے جنتر منتر پر کئی ہفتوں سے احتجاج جاری تھا۔ اس دوران معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی طویل بھوک ہڑتال کی۔ احتجاج کے باعث بھارتی حکومت پر طلبہ کے مطالبات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے حوالے سے دباؤ بڑھتا رہا۔ اب وزیر تعلیم کے استعفے کے بعد بھارت میں تعلیمی نظام اور امتحانات کے طریقہ کار سے متعلق حکومتی اقدامات پر بھی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











