امریکا اور سعودی عرب کے عراق میں مشترکہ فضائی حملے، 8 افراد ہلاک

سعودی عرب اور امریکا نے مشترکہ عسکری کارروائی کرتے ہوئے عراق میں ایران کے مبینہ حامی عسکری گروہوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس میں 8 افراد ہلاک ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع اور امریکی سینٹرل کمانڈ نے بدھ کی صبح عراق کے مختلف علاقوں میں ایران کی حامی ملیشیاؤں کے عسکری ٹھکانوں اور اسلحہ ڈپوؤں پر مشترکہ فضائی حملے کرنے کی تصدیق کی ہے۔
عراقی علاقوں نینوا، بابل، واسط، بصرہ اور کربلا میں قائم عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی کے مراکز پر کیے گئے ان حملوں میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 8 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی منگل اور پیر کو سعودی عرب کے مشرقی صوبے اور ریاض میں تیل کی تنصیبات پر عراقی سرزمین سے کیے گئے ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا اردن میں قائم امریکی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملہ
انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب علاقائی کشیدگی کا خواہاں نہیں ہے، تاہم اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اسے اپنی سلامتی اور معاشی اثاثوں کا دفاع کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔
امریکی سینٹکام کے مطابق گزشتہ 72 گھنٹوں میں ان کے خلاف 30 سے زائد ڈرون حملے کیے گئے تھے، جس کے جواب میں یہ کارروائی ضروری ہو گئی تھی۔
عراقی سیکیورٹی فورسز کا حصہ سمجھی جانے والی تنظیم حشد الشعبی نے اس امریکی و سعودی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے عراق کی سلامتی اور خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی عسکری حکام نے سعودی تنصیبات پر حملوں سے کسی بھی قسم کے تعلق کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات کو ایران سے جوڑنا ایک بڑی غلط فہمی ہے۔ اسی دوران یمن کے حوثی گروہ نے بھی صعدہ کی فضا میں ایک سعودی تجسسی ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












