اتوار، 16-اگست،2026
اتوار 1448/03/03هـ (16-08-2026م)

اے آئی تحریروں کی شناخت آسان بنانے کی تیاری، واٹرمارکنگ ٹیکنالوجی پر کام شروع

16 اگست, 2026 12:11

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ایک اہم سوال یہ بن گیا ہے کہ کسی تحریر کو انسان نے لکھا ہے یا اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔

اب ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے پر کام کیا جارہا ہے۔ اس مقصد کے لیے اے آئی سے تیار ہونے والے متن میں پوشیدہ واٹرمارک شامل کرنے کی ٹیکنالوجی پر توجہ دی جارہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اے آئی کمپنی اینتھروپک اپنے ماڈلز سے تیار ہونے والی تحریروں کے لیے واٹرمارکنگ ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں متن کے اندر ایک ایسا مخصوص پیٹرن شامل کیا جاسکتا ہے جو عام قاری کو نظر نہیں آئے گا۔ تاہم خاص سافٹ ویئر یا ڈیٹیکٹر کی مدد سے اس پیٹرن کو تلاش کیا جاسکے گا۔

اس نظام کا بنیادی مقصد اے آئی سے بننے والے مواد کی شناخت کو آسان بنانا ہے۔ اس سے تعلیمی اداروں، میڈیا، کمپنیوں اور دیگر شعبوں کو یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ کوئی مواد مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا ہے یا نہیں۔

واٹرمارکنگ کیسے کام کرے گی؟

اے آئی ماڈل جب کوئی جملہ تیار کرتا ہے تو وہ مختلف الفاظ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتا ہے۔ واٹرمارکنگ کا نظام اسی عمل میں کچھ مخصوص الفاظ کے انتخاب یا ترتیب کا ایک پوشیدہ انداز بنا سکتا ہے۔ یہ پیٹرن عام نظر سے چھپا رہے گا۔

متن پڑھنے والے کو اس تبدیلی کا عام طور پر اندازہ نہیں ہوگا۔ تحریر بھی معمول کے مطابق نظر آئے گی۔ لیکن مخصوص ڈیٹیکٹر اس میں موجود پیٹرن کو تلاش کرکے اے آئی سے تیار کردہ مواد کے بارے میں اندازہ لگا سکے گا۔

اس ٹیکنالوجی کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ رہی ہے کیونکہ انٹرنیٹ پر اے آئی سے تیار ہونے والی تحریروں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ خبریں، بلاگز، تعلیمی مواد اور سوشل میڈیا پوسٹس سمیت مختلف شعبوں میں اے آئی کا استعمال عام ہورہا ہے۔

یورپ میں بھی اے آئی مواد پر توجہ

اے آئی سے تیار ہونے والے مواد کی شناخت کا معاملہ صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں رہا۔ یورپی یونین کے اے آئی ایکٹ کے تحت اے آئی سے تیار یا تبدیل کیے گئے مواد کی واضح نشاندہی سے متعلق بھی قواعد پر توجہ دی جارہی ہے۔

ایسے قوانین کا مقصد صارفین کو یہ بتانا ہے کہ ان کے سامنے موجود مواد مکمل طور پر انسان کی تخلیق ہے یا اس میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ہوا ہے۔ اس سے خاص طور پر گمراہ کن مواد اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملنے کی امید ہے۔

کیا اے آئی واٹرمارک مکمل طور پر قابلِ اعتماد ہوگا؟

واٹرمارکنگ کو اے آئی مواد کی شناخت کے لیے ایک مفید طریقہ سمجھا جارہا ہے، لیکن اسے سو فیصد حتمی ثبوت قرار دینا مشکل ہے۔ ٹیکنالوجی میں بہتری کے باوجود ایسے طریقے موجود ہیں جن سے کسی واٹرمارک کا سگنل کمزور یا ختم ہوسکتا ہے۔

مثال کے طور پر معمولی ترمیم یا کاپی پیسٹ کرنے کے باوجود واٹرمارک برقرار رہ سکتا ہے۔ لیکن اگر کسی متن کو بڑے پیمانے پر دوبارہ لکھا جائے تو صورتحال مختلف ہوسکتی ہے۔ اسی طرح دوسری زبان میں ترجمہ کرنے یا پوری تحریر کو نئے انداز میں لکھنے سے بھی واٹرمارک متاثر ہوسکتا ہے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ واٹرمارک کی موجودگی لازماً یہ ثابت نہیں کرتی کہ پوری تحریر اے آئی نے لکھی ہے۔ ممکن ہے کسی انسان نے بنیادی مواد تیار کیا ہو اور اے آئی نے صرف اس کی زبان، ترتیب یا فارمیٹنگ بہتر کی ہو۔ ایسی صورت میں بھی شناختی نظام اے آئی کے استعمال کا سگنل دے سکتا ہے۔

اس کے برعکس اگر کسی تحریر میں واٹرمارک نہ ملے تو اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ لازماً انسان نے لکھی ہے۔ ایسی بہت سی اے آئی ٹیکنالوجیز موجود ہوسکتی ہیں جن میں واٹرمارک شامل نہ ہو۔

گوگل اور اوپن اے آئی بھی سرگرم

اے آئی مواد کی شناخت کے لیے صرف اینتھروپک ہی کام نہیں کر رہی۔ گوگل کی جیمینائی ٹیکنالوجی میں بھی اے آئی سے تیار کردہ مواد کی شناخت کے لیے واٹرمارکنگ سے متعلق نظام موجود ہے۔

اوپن اے آئی بھی ماضی میں اے آئی سے تیار کردہ مواد کی شناخت کے لیے مختلف ٹیکنالوجیز پر کام کرنے کا عندیہ دے چکا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے وقت میں اے آئی مواد کی شناخت ٹیکنالوجی کی ایک اہم قسم بن سکتی ہے۔

اے آئی واٹرمارکنگ کے ذریعے مستقبل میں صارفین کے لیے یہ سمجھنا آسان ہوسکتا ہے کہ آن لائن موجود کوئی تحریر مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار ہوئی ہے یا نہیں۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کے نتائج کو استعمال کرتے وقت احتیاط بھی ضروری ہوگی۔

ماہرین کے مطابق اے آئی ڈیٹیکشن کے لیے صرف ایک ٹول پر انحصار کرنا مناسب نہیں۔ متن کے انداز، مواد کے ذرائع اور دیگر شواہد کو بھی ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ خاص طور پر تعلیم اور صحافت جیسے شعبوں میں کسی شخص پر صرف اے آئی ڈیٹیکٹر کے نتیجے کی بنیاد پر فیصلہ کرنا مسئلہ پیدا کرسکتا ہے۔

اے آئی کے تیزی سے پھیلتے استعمال کے ساتھ مواد کی شناخت کا مسئلہ مستقبل میں مزید اہم ہونے کا امکان ہے۔ واٹرمارکنگ اس مسئلے کا ایک ممکنہ حل ہے، لیکن فی الحال اسے مکمل اور ناقابلِ شکست طریقہ نہیں کہا جاسکتا۔ ٹیکنالوجی میں مزید ترقی کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ اے آئی سے تیار کردہ تحریروں کی شناخت کس حد تک درست انداز میں ممکن ہوسکے گی۔

Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔