طالبان اقتدار کے 5 سال، دنیا بھر کے 24 شہروں میں زبردست احتجاجی مظاہرے

افغان طالبان کے اقتدار پر قبضے کے 5 سال مکمل ہونے پر دنیا بھر کے 24 اہم شہروں میں افغان شہریوں نے زبردست احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالیں۔
افغان طالبان کے اقتدار میں واپسی کے 5 سال مکمل ہونے پر عالمی سطح پر شدید احتجاج کی نئی لہر سامنے آئی ہے، جس کے تحت دنیا بھر کے 24 شہروں میں مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔
کینیڈا، جرمنی، نیدرلینڈز، سوئزرلینڈ، فن لینڈ، ناروے، آسٹریا، سویڈن، اسپین، پاکستان اور امریکہ میں مقیم افغان باشندوں نے طالبان کی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا۔
جرمنی کے 9 اہم شہروں بون، میونخ، اسٹٹ گارٹ، ہیمبرگ، برلن، کیل، فرینکفرٹ، کولون اور ڈسلڈورف میں بڑے مظاہرے کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں : دہشت گردی کا گٹھ جوڑ بے نقاب، افغان طالبان نے بھارتی یوٹیوبر کو حساس سرحد اور فتنہ الخوارج تک رسائی دے دی
دنیا بھر میں افغان شہریوں نے مظاہروں کے ساتھ ساتھ احتجاجی کیمپ قائم کیے، پٹیشن مہمات چلائیں اور بھوک ہڑتالیں بھی کیں۔
افغان ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے عالمی برادری سے طالبان رجیم کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی سخت مخالفت کی اور افغان خواتین کے تمام بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے کوئینز پارک میں افغان مہاجرین کا ایک بہت بڑا مظاہرہ ہوا، جہاں طالبان کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔
مظاہرین نے صنف کی بنیاد پر امتياز کے خاتمے، آزادی اظہار، صحافت کے تحفظ اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں پر طالبان انتظامیہ کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا۔
ایمسٹرڈیم میں مظاہرین نے نیدرلینڈز اور یورپی یونین سے اپیل کی کہ وہ طالبان کو کسی صورت تسلیم نہ کریں اور افغان خواتین کی آزادی کو ترجیح دیں۔
سوئزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے بھی بڑا مظاہرہ کیا گیا۔ اسٹٹ گارٹ اور ہیمبرگ میں مظاہرین نے روٹی، کام اور آزادی کے نعرے لگائے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












