مغرب کی 5 بڑی طاقتوں نے مغربی کنارے پر اسرائیل کی نئی بستیاں بسانے کے منصوبے کو مسترد کردیا

مغرب کی 5 بڑی طاقتوں سمیت اقوام متحدہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے ای ون میں اسرائیل کی جانب سے بستیاں بسانے کے نئے ٹینڈر جاری کرنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ان منصوبوں کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔
اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم علاقے ای ون میں تقریباً 1200 سے زائد نئے یہودی مکانات کی تعمیر کے لیے ٹینڈر کھولنے کے فیصلے پر دنیا کی بڑی مغربی طاقتوں کی جانب سے شدید ردعمل اور مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔
برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور کینیڈا نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیلی فیصلے کو ناپائیدار اور ناقابل قبول قرار دیا ہے اور اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ ان منصوبوں کو فوری طور پر منسوخ کرے۔
عالمی قوانین کے تحت مقبوضہ علاقوں میں تمام تر اسرائیلی بستیاں غیر قانونی ہیں۔ ای ون کا علاقہ شرقی یروشلم کے مشرق میں واقع ہے اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع سے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی تمام امیدیں ختم ہو جائیں گی کیونکہ یہ منصوبہ مغربی کنارے کو دو حصوں میں تقسیم کر دے گا اور شرقی یروشلم کو باقی فلسطینی علاقوں سے کاٹ دے گا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کا امریکی اور اسرائیلی جنگوں کے اسباق کی روشنی میں دفاعی نظام جدید بنانے کا اعلان
مغربی ممالک کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں تشدد کی بڑھتی ہوئی لہر کے دوران اسرائیل کا یہ فیصلہ انتہائی تشویشناک ہے، جو امن کے امکانات کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اسرائیل کے مؤقف کو مزید نقصان پہنچائے گا۔
اسی حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور بلجیم کے وزیر خارجہ نے بھی واضح کیا ہے کہ ای ون منصوبہ ایک مربوط اور آزاد فلسطینی ریاست کی بقا کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور برطانوی حکومت نے اس معاملے پر اسرائیلی چارج ڈی افیئرز کو طلب کر کے اپنا شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔
اسرائیلی وزارت مکانات نے گزشتہ برس منظور کیے گئے 3401 مکانات میں سے 1234 یونٹس کے لیے ٹینڈر شائع کیا ہے، جو کہ مقبوضہ یروشلم اور معالے ادومیم کی بستی کے درمیانی 12 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔
اس منصوبے پر بولی کی آخری تاریخ 19 اکتوبر رکھی گئی ہے، جو کہ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات سے محض چند روز قبل ہے، تاکہ آنے والی کسی بھی حکومت کے لیے اسے منسوخ کرنا ممکن نہ رہے۔
فلسطینی اتھارٹی نے انتباہ دیا ہے کہ اس سے فلسطینی شہری بستیوں سے گھِرے ہوئے الگ تھلگ علاقوں میں محصور ہو کر رہ جائیں گے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











