گل پلازہ میں صرف آگ نہیں لگی، نظام بھی جل کر بے نقاب ہوگیا؛ جوڈیشل رپورٹ کے تہلکہ خیز انکشافات

خطرے کا پہلے سے علم تھا، فائر بریگیڈ تاخیر سے حرکت میں آیا، پانی کی کمی نے آپریشن متاثر کیا، ریسکیو کے مواقع ضائع ہوئے؛ گل پلازہ سانحے کی جوڈیشل رپورٹ نے کئی اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے
کراچی: گل پلازہ میں آگ لگی تو اسے ابتدا میں ایک خوفناک حادثہ سمجھا گیا، لیکن اب منظر عام پر آنے والی جوڈیشل کمیشن رپورٹ ایک کہیں زیادہ سنگین تصویر پیش کرتی ہے۔
سوال صرف یہ نہیں کہ گل پلازہ میں آگ کیسے لگی؟
اصل سوال یہ ہے کہ:
جب خطرات پہلے سے معلوم تھے تو کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟
فائر بریگیڈ کو بروقت اطلاع کیوں نہ دی گئی؟
ریسکیو کا موقع موجود ہونے کے باوجود لوگوں کو کیوں نہ بچایا جاسکا؟
اور اگر متعلقہ اداروں کے پاس قانونی اختیارات موجود تھے تو انہیں استعمال کس نے نہیں کیا؟
جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن کی 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ نے سانحہ گل پلازہ کو محض ایک آتشزدگی کا واقعہ قرار دینے کے بجائے ایسے ادارہ جاتی نظام کی ناکامی کے طور پر پیش کیا ہے جہاں خطرے کی نشان دہی تو ہوتی رہی لیکن اسے روکنے کے لیے مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔
خطرہ معلوم تھا، پھر گل پلازہ چلتا کیسے رہا؟
جوڈیشل رپورٹ کا شاید سب سے پریشان کن پہلو یہ ہے کہ گل پلازہ میں موجود فائر سیفٹی خطرات سانحے کے دن اچانک دریافت نہیں ہوئے تھے۔
2024 اور 2025 میں سول ڈیفنس کے معائنوں کے دوران عمارت میں فائر سیفٹی آلات، خارجی راستوں اور بڑی مقدار میں موجود آتش گیر تجارتی سامان سے متعلق خامیوں کی نشان دہی کی جاچکی تھی۔
یعنی خطرے کی گھنٹی حادثے سے بہت پہلے بج چکی تھی۔
اس کے باوجود سوال اپنی جگہ موجود ہے:
اگر ایک مصروف تجارتی عمارت میں خطرات کا علم تھا تو اسے محفوظ بنانے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟
یہی نکتہ جوڈیشل کمیشن نے بھی نمایاں کیا۔ مسئلہ صرف خطرے کو شناخت کرنے میں ناکامی نہیں تھا بلکہ شناخت شدہ خطرے کے خلاف کارروائی نہ کرنا بھی بنیادی ناکامیوں میں شامل تھا۔
کاغذوں میں 1,102، حقیقت میں 1,153 دکانیں؟
رپورٹ میں گل پلازہ کی دکانوں سے متعلق سامنے آنے والا فرق بھی اہم سوال پیدا کرتا ہے۔
ریگولرائزڈ پلان کے مطابق عمارت میں 1,102 دکانیں منظور شدہ تھیں، جبکہ رپورٹ کے مطابق حقیقت میں 1,153 دکانیں موجود تھیں۔
یعنی منظور شدہ تعداد سے 51 دکانیں زیادہ۔
اب سوال یہ ہے کہ اضافی دکانیں کیسے وجود میں آئیں؟ متعلقہ اداروں کی نگرانی کہاں تھی؟ اور اتنے بڑے تجارتی مرکز میں فائر لوڈ اور لوگوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ حفاظتی انتظامات کا ازسرنو جائزہ کیوں نہیں لیا گیا؟
گل پلازہ میں بڑی مقدار میں آتش گیر تجارتی سامان کی موجودگی نے خطرے کو مزید بڑھا دیا تھا۔
آگ لگی، مگر فائر فائٹنگ کب شروع ہوئی؟
کسی بھی بڑی آگ میں ابتدائی چند منٹ فیصلہ کن ہوتے ہیں۔
مگر گل پلازہ میں یہی منٹ ضائع ہوگئے۔
جوڈیشل رپورٹ کے مطابق فائر بریگیڈ کو اطلاع دینے میں غیر دانشمندانہ تاخیر ہوئی جبکہ اطلاع ملنے کے بعد ریسپانس بھی مقررہ معیار کے مطابق نہیں تھا۔
رپورٹ میں سامنے آنے والی اہم بات یہ ہے کہ مؤثر فائر فائٹنگ تقریباً 35 سے 40 منٹ بعد شروع ہوئی۔
یہ 35 سے 40 منٹ اب سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کا ایک بنیادی سوال بن چکے ہیں۔
اگر مؤثر فائر فائٹنگ پہلے شروع ہوجاتی تو کیا نقصان کم ہوسکتا تھا؟
پانی کہاں تھا؟
فائر فائٹنگ شروع ہونے کے بعد ایک اور بنیادی مسئلہ سامنے آیا: پانی۔
رپورٹ کے مطابق پانی کی کمی اور فائر ٹینڈرز کو دوبارہ بھرنے کی ضرورت نے آپریشن کو متاثر کیا۔
کراچی جیسے بڑے شہر کے مصروف تجارتی علاقے میں ایک بڑے فائر آپریشن کے دوران پانی کی دستیابی میں مشکلات پورے ایمرجنسی ریسپانس سسٹم پر سوالیہ نشان ہیں۔
آگ بجھانے والے ادارے موجود تھے، گاڑیاں موجود تھیں، فائر اسٹیشن موجود تھے—پھر ایک بڑے سانحے کے ابتدائی مرحلے میں مسلسل پانی کی فراہمی یقینی کیوں نہ بنائی جاسکی؟
بجلی بند ہوئی اور اندر پھنسے لوگ اندھیرے میں رہ گئے
آگ لگنے کے بعد بجلی بند کرنا بظاہر حفاظتی اقدام ہوسکتا ہے، مگر گل پلازہ میں اس کے نتائج انتہائی سنگین نکلے۔
جوڈیشل رپورٹ کے مطابق بجلی منقطع ہونے کے بعد عمارت اندھیرے میں ڈوب گئی اور بالائی منزلوں پر موجود لوگوں کے لیے باہر نکلنا مزید مشکل ہوگیا۔
یہاں ایک اور چونکا دینے والا سوال سامنے آتا ہے۔
عمارت میں اسپیکر سسٹم موجود تھا۔
مگر اسے لوگوں کو فوری انخلا کی ہدایات دینے، محفوظ راستے بتانے یا ایمرجنسی پیغامات نشر کرنے کے لیے مؤثر انداز میں استعمال نہیں کیا گیا۔
ایک ایسا نظام جو بحران کے چند اہم ترین منٹوں میں لوگوں کی رہنمائی کرسکتا تھا، عملی طور پر کام نہ آسکا۔
کیا لوگوں کو بچانے کا موقع موجود تھا؟
جوڈیشل رپورٹ کا سب سے تکلیف دہ حصہ شاید یہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ چکے تھے اور ایک مرحلے پر کچھ افراد کو بچانے کا مؤثر موقع موجود تھا۔
تقریباً رات 11:15 سے 11:20 بجے تک بعض متاثرین نظر آرہے تھے اور ان تک پہنچنے کی گنجائش موجود تھی۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 11:30 بجے تک ریمپ کے ذریعے رسائی بھی ممکن تھی۔
لیکن دستیاب موقع کو بڑے پیمانے کے مؤثر ریسکیو آپریشن میں تبدیل نہیں کیا جاسکا۔
یہ انکشاف ایک انتہائی اہم سوال چھوڑتا ہے:
اگر ریسکیو ونڈو موجود تھی تو اسے پوری قوت کے ساتھ استعمال کیوں نہیں کیا گیا؟
سول ڈیفنس کو خامیوں کا علم تھا، کارروائی کہاں تھی؟
گل پلازہ کا 2024 اور 2025 میں معائنہ ہوچکا تھا۔
خامیاں بھی سامنے آچکی تھیں۔
لیکن ان خامیوں کے خاتمے کے لیے ایسی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی جو خطرے کو ختم کرسکتی۔
جوڈیشل کمیشن کے سامنے اس لیے سوال صرف یہ نہیں تھا کہ کیا ادارے کو خطرے کا علم تھا؟
بلکہ زیادہ اہم سوال یہ تھا:
علم ہونے کے بعد کیا کیا گیا؟
رپورٹ کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطرے کی نشان دہی اور خطرے کے خاتمے کے درمیان موجود یہی خلا سانحے کی اہم کڑی بن گیا۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی کا دفتر بھی سوالوں کی زد میں
جوڈیشل رپورٹ نے ضلعی انتظامیہ، بالخصوص ڈپٹی کمشنر جنوبی کے دفتر کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔
سندھ ہائی کورٹ کی ہدایات کے تحت فائر آڈٹ کا نظام موجود ہونے کے باوجود گل پلازہ کا مطلوبہ مشترکہ فائر آڈٹ نہ ہونا ایک اہم ادارہ جاتی ناکامی کے طور پر سامنے آیا۔
یہاں بنیادی سوال پھر وہی ہے:
اگر نظام موجود تھا تو استعمال کیوں نہیں ہوا؟
قانون، قواعد اور سرکاری نوٹیفکیشن کاغذوں میں موجود رہیں لیکن زمینی سطح پر ان پر عمل نہ ہو تو ان کا فائدہ کیا؟
ایس بی سی اے کہاں تھا؟
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بھی جوڈیشل رپورٹ میں اٹھائے گئے سوالات سے باہر نہیں۔
عمارتوں کی قانونی حیثیت، تعمیراتی تبدیلیاں، خطرناک عمارتوں کے خلاف کارروائی اور بلڈنگ سیفٹی جیسے معاملات میں SBCA کے پاس قانونی اختیارات موجود ہیں۔
رپورٹ کے تناظر میں یہ مؤقف کافی نہیں سمجھا گیا کہ معائنہ صرف شکایت موصول ہونے پر کیا جاتا ہے۔
خاص طور پر جب ایک بڑی کمرشل عمارت میں ہزار سے زائد دکانیں ہوں تو سوال بنتا ہے کہ اس کی تعمیراتی اور حفاظتی حالت کی مسلسل نگرانی کس کی ذمہ داری تھی؟
بجلی کے نظام کا باقاعدہ معائنہ ہی نہیں؟
گل پلازہ جیسے بڑے تجارتی مرکز کے حوالے سے ایک اور اہم انکشاف برقی نظام سے متعلق سامنے آیا۔
الیکٹرک انسپکٹر کے بیان کے مطابق گل پلازہ کا باقاعدہ برقی معائنہ نہیں کیا گیا تھا۔
ایک ایسی عمارت جہاں سینکڑوں نہیں بلکہ ایک ہزار سے زائد کاروباری یونٹس کام کررہے ہوں، وہاں برقی تنصیبات، لوڈ، وائرنگ اور حفاظتی نظام کا باقاعدہ معائنہ نہ ہونا خود ایک بڑا سوال ہے۔
ایک عمارت، کئی ادارے—ذمہ دار کون؟
سانحہ گل پلازہ کی کہانی میں سب سے بڑا مسئلہ شاید یہی ہے۔
ایک ادارہ بلڈنگ دیکھتا ہے۔
دوسرا فائر سیفٹی۔
تیسرا ضلعی انتظامیہ۔
چوتھا فائر فائٹنگ۔
پانچواں ریسکیو۔
لیکن جب سانحہ ہوتا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے:
آخری ذمہ داری کس کی تھی؟
جوڈیشل کمیشن نے کسی ایک ادارے یا کسی ایک حکومت کو پورے سانحے کا واحد ذمہ دار قرار دینے کے بجائے مختلف سطحوں پر اجتماعی اور ادارہ جاتی ناکامی کی تصویر پیش کی ہے۔
قوانین موجود تھے۔
اختیارات موجود تھے۔
معائنے ہوئے۔
خطرات سامنے آئے۔
ریسکیو ادارے بھی موجود تھے۔
مگر نظام وقت پر کام نہ کرسکا۔
78 صفحات کی رپورٹ کئی ماہ عوام سے دور کیوں رہی؟
ایک اور اہم سوال خود جوڈیشل رپورٹ کے اجرا سے متعلق ہے۔
کمیشن نے تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ اپریل 2026 میں سندھ حکومت کو جمع کرادی تھی۔
مگر رپورٹ فوری طور پر عوام کے سامنے نہیں آئی۔
بعد میں سندھ انفارمیشن کمیشن کے سامنے بھی اسے جاری کرنے کا معاملہ پہنچا، جہاں جولائی میں جاری تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کے اجرا کی درخواست مسترد کردی گئی۔
بالآخر 29 اگست 2026 کو سندھ حکومت نے 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ پبلک کردی۔
اس تاخیر نے بھی ایک سوال پیدا کیا:
عوامی مفاد سے متعلق اتنی اہم تحقیق کئی ماہ تک عوام کی پہنچ سے باہر کیوں رہی؟
سانحہ گل پلازہ کے 10 بڑے سوال
جوڈیشل رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد اب ان سوالات کے واضح جواب ضروری ہیں:
1۔ 2024 اور 2025 میں خطرات سامنے آنے کے باوجود کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟
2۔ منظور شدہ 1,102 دکانوں کے مقابلے میں 1,153 دکانیں کیسے موجود تھیں؟
3۔ فائر بریگیڈ کو اطلاع دینے میں تاخیر کیوں ہوئی؟
4۔ مؤثر فائر فائٹنگ شروع ہونے میں 35 سے 40 منٹ کیوں لگے؟
5۔ بڑے فائر آپریشن کے لیے پانی کی مسلسل فراہمی کیوں دستیاب نہیں تھی؟
6۔ عمارت کا اسپیکر سسٹم انخلا کے لیے کیوں استعمال نہیں ہوا؟
7۔ ریسکیو کا موقع موجود ہونے کے باوجود اسے مکمل طور پر استعمال کیوں نہیں کیا جاسکا؟
8۔ مشترکہ فائر آڈٹ کیوں نہیں ہوا؟
9۔ عمارت کے برقی نظام کا باقاعدہ معائنہ کیوں نہیں کیا گیا؟
10۔ اور سب سے اہم—جوڈیشل رپورٹ سامنے آنے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف اب کیا کارروائی ہوگی؟
حادثہ یا قابلِ روک تھام سانحہ؟
گل پلازہ کی جوڈیشل رپورٹ ایک بنیادی فرق واضح کرتی دکھائی دیتی ہے۔
ہر آگ کو روکا نہیں جاسکتا۔
لیکن آگ کو سانحہ بننے سے روکنے کے لیے نظام بنایا جاتا ہے۔
فائر الارم، خارجی راستے، فائر آڈٹ، بلڈنگ انسپیکشن، ایمرجنسی لائٹنگ، اسپیکر سسٹم، فائر بریگیڈ، پانی اور ریسکیو ادارے اسی لیے ہوتے ہیں کہ حادثے کے باوجود انسانی جانیں بچائی جاسکیں۔
گل پلازہ میں مسئلہ یہ نہیں تھا کہ کوئی نظام موجود ہی نہیں تھا۔
اصل مسئلہ یہ تھا کہ مختلف مقامات پر موجود نظام اہم ترین وقت پر مؤثر ثابت نہیں ہوا۔
اب جبکہ جوڈیشل رپورٹ عوام کے سامنے آچکی ہے، اگلا مرحلہ رپورٹ پڑھنے سے زیادہ اہم ہے۔
کیا ذمہ داری کا تعین ہوگا؟
کیا غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی؟
کیا کراچی کی دوسری ہزاروں کمرشل عمارتوں کا حقیقی فائر سیفٹی آڈٹ ہوگا؟
یا گل پلازہ بھی چند ماہ بعد فائلوں میں دفن ہونے والا ایک اور سانحہ بن جائے گا؟
گل پلازہ کی آگ بجھ چکی ہے، لیکن جوڈیشل رپورٹ نے جو سوالات روشن کیے ہیں، ان کے جواب ابھی باقی ہیں
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









