کراچی : ناظم آباد اسپتال ڈرامے کا ڈراپ سین، خاتون کے حاملہ ہونے کا دعویٰ جھوٹا نکلا

کراچی ناظم آباد اسپتال بچے کی گمشدگی کیس کا ڈراپ سین ہو گیا، طبی معائنے میں خاتون کا حاملہ نہ ہونا ثابت ہوا، خاتون نے خاندانی دباؤ کے باعث جعلی الٹراساؤنڈ رپورٹ بنوائی۔
کراچی کے علاقے ناظم آباد میں واقع ہمدرد یونیورسٹی اسپتال میں نوزائیدہ بچے کی پیدائش اور گمشدگی کے دعوے کی حقیقت سامنے آ گئی ہے۔
پولیس تفتیش اور میڈیکل رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ خاتون زوبیا زوجہ راشد سرے سے حاملہ ہی نہیں تھی اور اس نے خاندان کے دباؤ سے بچنے کے لیے حمل کا جھوٹا ڈرامہ رچایا تھا۔
پولیس کے مطابق خاتون کی شادی 2024 میں ہوئی تھی، جس کے کچھ عرصے بعد اس کا مس کیرج ہو گیا تھا۔ شدید خاندانی اور سماجی دباؤ کے باعث اس نے فروری سے خود کو حاملہ ظاہر کرنا شروع کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں : پمز نرسری آتشزدگی رپورٹ پبلک، وزیر اعظم نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 اعلیٰ افسران معطل کردیئے
اس مقصد کے لیے خاتون نے الٹراساؤنڈ کی جعلی رپورٹس تیار کروائیں اور اسپتال جا کر معائنہ کروانے کی اداکاری کرتی رہی لیکن اس نے اصل رپورٹس کبھی ڈاکٹر کو نہیں دکھائیں۔
واقعے کے بعد جب پولیس نے خاتون کو ایم ایل او کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا، تو وہاں طبی معائنے کے بعد جاری ہونے والی میڈیکل رپورٹ میں حمل کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ خاتون نے پولیس کے سامنے اعتراف کر لیا کہ اس نے خاندانی دباؤ کی وجہ سے یہ تمام کہانی گھڑی تھی۔
دوسری جانب، بغیر کسی درست طبی معائنے، الٹراساؤنڈ اور ضروری ٹیسٹوں کی تصدیق کے خاتون کا آپریشن کر دینے پر اسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹروں کی شدید غفلت بھی سامنے آ گئی ہے۔
اسپتال عملے نے صرف موبائل فون میں موجود الٹراساؤنڈ دیکھ کر آپریشن کا فیصلہ کر لیا تھا، جس سے یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ بغیر بچے کے آپریشن کیسے کر دیا گیا۔
پولیس نے خاتون کے شوہر راشد کی درخواست تھانہ ناظم آباد میں وصول کر لی ہے۔ ایس ایس پی سینٹرل کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج اور میڈیکل کمیشن کی حتمی رپورٹ کے بعد اسپتال عملے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور معاملہ ہیلتھ کمیشن کو بھی بھیجا جائے گا۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












