پمز نرسری آتشزدگی رپورٹ پبلک، وزیر اعظم نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 اعلیٰ افسران معطل کردیئے

پمز اسپتال اسلام آباد کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی کی انکوائری کمیٹی کی روشنی میں وزیراعظم نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 اعلیٰ حکام کو فوری معطل کر کے ان کے خلاف فوجداری اور محکمانہ کارروائی کی منظوری دے دی۔
اسلام آباد کے پمز اسپتال کے نرسری وارڈ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے دلخراش واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی کی عبوری رپورٹ پبلک کر دی گئی ہے۔
11 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسپتال میں فائر سیفٹی کا کوئی عملی اور مؤثر نظام موجود نہیں تھا جبکہ ایمرجنسی راستے اور فائر ایگزٹ کے دروازے بند یا رکاوٹوں کا شکار تھے، جنہیں فائر فائٹرز نے زبردستی توڑا۔
رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کی حتمی وجہ فی الحال معلوم نہیں ہو سکی ہے، تاہم الیکٹرک شارٹ سرکٹ، ایئر کنڈیشنر، انکیوبیٹر یا برقی ساکٹ سے آگ بھڑکنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
آئیسکو ریکارڈ کے مطابق اس وقت باہر سے بجلی کی کوئی خرابی نہیں ہوئی تھی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ کا سبب پمز کا اندرونی برقی نظام ہو سکتا ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج سے ظاہر ہوا کہ محض 2 منٹ کے اندر نرسری کا ماحول انتہائی خطرناک حد تک خراب ہو گیا تھا اور پورا وارڈ آگ کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ اسپتال میں نوزائیدہ بچوں کے انخلا کے لیے کوئی تربیت یافتہ عملہ، منظور شدہ ایس او پیز یا مشقیں موجود نہیں تھیں۔ پمز کے 13 ایس او پیز میں سے صرف 2 میں آگ سے نمٹنے کا ذکر تھا۔
واقعے کے وقت نگراں اعلیٰ عملہ ڈیوٹی سے غائب تھا اور صرف 2 نرسیں، ایک خاتون سیکیورٹی گارڈ اور ایک ہاؤس آفیسر وارڈ میں موجود تھے۔ پہلی ایمرجنسی کال 6 بجکر 54 منٹ پر کی گئی اور فائر بریگیڈ 6 سے 7 منٹ میں پہنچی، جبکہ پہلا ایمرجنسی رسپانس واقعے کے 21 منٹ بعد پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں : سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش؛ شہباز شریف کا رپورٹ کی روشنی میں فوری ایکشن کا فیصلہ
رپورٹ نے نرسنگ عملے پر بچوں کو لاوارث چھوڑنے کے الزامات مسترد کر دیئے۔ سی سی ٹی وی میں دیکھا گیا کہ چارج نرس نسرین نے مدد پکاری، سیکیورٹی گارڈ ماریہ اندر داخل ہوئی اور نرس رضیہ نے اپنی جان پر کھیل کر ایک نوزائیدہ بچے کو بحفاظت باہر نکالا۔
کمیٹی کے مطابق جولائی میں نرسنگ ہاسٹل میں بھی آگ لگی تھی، لیکن اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ اسپتال میں فائر سیفٹی کا کوئی مستقل افسر بھی تعینات نہیں تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس عبوری رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے مجرمانہ غفلت کے مرتکب 8 اعلیٰ حکام کو فوری معطل کرنے اور ان کے خلاف فوجداری قوانین کے تحت بلاامتیاز کارروائی کی منظوری دی۔
معطل ہونے والوں میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینیئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی محمد عثمان اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروسز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبدالرحمن شامل ہیں۔
وزیراعظم نے اپنی جان پر کھیل کر بچے کو بچانے والی نرس کے لیے ستارہ خدمت دینے اور ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا۔ وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون سیکیورٹی گارڈ کو او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ این آئی ایچ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمد سلمان کو تین سال کیلئے پمز کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ رپورٹ کو فوراً وزارت قومی صحت کی ویب سائٹ پر عام کیا جائے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










