سعودی عرب میں پاکستانی ملازمین کی سروس ختم ہونے پر مراعات، اہم تفصیلات

Saudi Work Visa Seekers Beware Scam!
اسلام آباد: سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانی ملازمین کے لیے ملازمت ختم ہونے کے بعد ملنے والی مراعات سے متعلق اہم معلومات سامنے آگئی ہیں۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE) اسلام آباد کے مطابق سعودی عرب میں ملازمت کے اختتام پر پہلے پانچ سال کی سروس کے لیے ہر سال نصف ماہ کی تنخواہ کے برابر مراعات دی جاتی ہیں، جبکہ پانچ سال کے بعد ملازم ہر مکمل سال کے عوض ایک ماہ کی تنخواہ کے برابر مراعات کا حق دار ہوتا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق 2 سے 5 سال تک ملازمت کرنے والے ملازمین کو ہر سال ایک تہائی ماہ کی تنخواہ کے برابر مراعات دی جاتی ہیں، جبکہ 5 سے 10 سال تک سروس مکمل کرنے والے ملازمین کے لیے ہر سال دو تہائی ماہ کی تنخواہ کے برابر مراعات مقرر ہیں۔
بیورو آف امیگریشن نے مزید واضح کیا کہ اگر کسی ملازم کو آجر یا کفیل کی غلط کارروائی کے نتیجے میں ملازمت سے فارغ کیا جائے تو قانون کے تحت اسے ملازمت کے اختتام پر مکمل مراعات دی جائیں گی۔
سعودی عرب میں غیرملکی ملازمین کے لیے ملازمت سے متعلق قوانین بھی واضح ہیں۔ بعض حالات میں اگر کفیل یا آجر بروقت تنخواہ ادا نہ کرے یا ملازم سے معاہدے کے برخلاف کام کروایا جائے تو ملازم کو فوری طور پر ملازمت چھوڑنے کا قانونی حق حاصل ہوسکتا ہے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق ملازمت کا معاہدہ معاہدے کی مدت مکمل ہونے پر ختم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ کاروباری سرگرمی مستقل طور پر بند ہونے یا ملازم کی جانب سے دھوکہ دہی، جسمانی حملے، راز افشا کرنے یا مسلسل فرائض انجام دینے سے انکار جیسی انضباطی وجوہات کی صورت میں بھی ملازمت ختم کی جاسکتی ہے۔
سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے لیے ملازمت کے معاہدے، سروس کی مدت اور ملازمت ختم ہونے کی وجہ کے مطابق اپنے قانونی حقوق اور مراعات سے آگاہ رہنا اہم ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










