پیر، 31-اگست،2026
پیر 1448/03/18هـ (31-08-2026م)

انٹرنیٹ صارفین کے لیے اہم خبر، ٹیلی کام کیبلز کے چارجز میں بڑا اضافہ

31 اگست, 2026 11:10

لاہور: انٹرنیٹ صارفین کے لیے اہم خبر سامنے آئی ہے، قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ (QIE) میں ٹیلی کام کیبلز بچھانے اور ان کی دیکھ بھال سے متعلق مختلف چارجز میں نمایاں اضافہ کردیا گیا ہے۔ نئے نرخوں کے باعث ٹیلی کام کمپنیوں کے انفرااسٹرکچر اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے مستقبل میں انٹرنیٹ اور دیگر ٹیلی کام سروسز کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکسیس پرووائیڈرز ایسوسی ایشن (PTAPA) نے نئے چارجز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب کی انتظامیہ اور وفاقی حکومت سے نظرثانی شدہ نرخوں کا فوری جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کے لیے عائد کیے جانے والے رائٹ آف وے (ROW) چارجز وفاقی حکومت کی منظور شدہ پالیسی کے مطابق ہونے چاہئیں تاکہ ٹیلی کام نیٹ ورک کی توسیع اور نئی سرمایہ کاری متاثر نہ ہو۔

قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ انتظامیہ کی جانب سے جاری نئے نرخوں کے مطابق فضائی ٹیلی کام کیبلز کا سالانہ کرایہ 50 روپے سے بڑھا کر 300 روپے فی میٹر کردیا گیا ہے۔

اس طرح فضائی کیبلز کے سالانہ کرایے میں 6 گنا اضافہ ہوا ہے۔ ٹیلی کام آپریٹرز کے مطابق اس اضافے سے صنعتی علاقے میں موجود نیٹ ورک کی دیکھ بھال اور انفرااسٹرکچر کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔

نئے نرخوں کے تحت زیرِ زمین ٹیلی کام کیبلز کے لیے ایک مرتبہ ادا کی جانے والی رائٹ آف وے فیس بھی بڑھا دی گئی ہے۔

یہ فیس 300 روپے سے بڑھا کر 1,000 روپے فی میٹر کردی گئی ہے۔ یوں اس چارج میں تقریباً 233 فیصد اضافہ ہوا ہے اور نئی فیس پرانی شرح کے مقابلے میں تقریباً 3.33 گنا زیادہ ہوگئی ہے۔

اس کے علاوہ زیرِ زمین کیبلز کا سالانہ کرایہ بھی 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے فی میٹر کردیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں اس مد میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ٹیلی کام انفرااسٹرکچر سے متعلق سپرویژن فیس میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ زیرِ زمین کیبلز کے لیے ایک مرتبہ ادا کیے جانے والے سپرویژن چارجز 80 روپے سے بڑھا کر 250 روپے فی میٹر کردیئے گئے ہیں۔

اس حساب سے سپرویژن فیس میں تقریباً 212.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

PTAPA کے مطابق مختلف مدوں میں چارجز بڑھنے سے ٹیلی کام آپریٹرز کے لیے نئی کیبلز بچھانا، موجودہ انفرااسٹرکچر کی دیکھ بھال اور نیٹ ورک کو توسیع دینا مزید مہنگا ہوسکتا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکسیس پرووائیڈرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ عوامی اداروں اور سرکاری اتھارٹیز کی جانب سے عائد کیے جانے والے رائٹ آف وے چارجز No-Profit-No-Loss اصول کے تحت مقرر کیے جانے چاہئیں۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ROW چارجز کا بنیادی مقصد متعلقہ سروس فراہم کرنے پر آنے والے اخراجات کو پورا کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں سرکاری یا عوامی اداروں کے لیے تجارتی آمدنی کا ذریعہ بنایا جائے۔

PTAPA نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیلی کام انفرااسٹرکچر سے متعلق فیس اور دیگر چارجز اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کیے جائیں تاکہ ٹیلی کام کمپنیوں پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ پڑے۔

ایسوسی ایشن نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے کھمبوں کے استعمال سے متعلق اضافی چارجز پر بھی اعتراض اٹھایا ہے۔

PTAPA کے مطابق جو ٹیلی کام آپریٹرز پہلے ہی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے کھمبوں کے استعمال کے لیے منظور شدہ ٹیرف ادا کر رہے ہیں، ان پر مزید اجازت یا NOC چارجز عائد نہیں کیے جانے چاہئیں۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پہلے سے منظور شدہ ٹیرف کی ادائیگی کے باوجود اضافی اجازت یا NOC فیس عائد کرنے سے ٹیلی کام آپریٹرز کے اخراجات میں غیر ضروری اضافہ ہوسکتا ہے۔

PTAPA نے حکام سے نئی ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کی تنصیب کے لیے درکار اجازتوں کے معاملے میں بھی فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق بعض معاملات میں نئی ٹیلی کام انفرااسٹرکچر بچھانے کے لیے درکار اجازتیں روکے جانے کی اطلاعات ہیں، جس سے ٹیلی کام نیٹ ورک کی توسیع کا عمل سست پڑ سکتا ہے۔

PTAPA نے خبردار کیا ہے کہ اگر صنعتی علاقوں میں نئی کیبلز بچھانے اور نیٹ ورک کو توسیع دینے کے عمل میں رکاوٹیں برقرار رہیں تو وہاں کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو انٹرنیٹ اور دیگر ضروری مواصلاتی خدمات کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے۔

ٹیلی کام چارجز میں اضافے کے بعد عام صارفین کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس کا اثر انٹرنیٹ پیکیجز کی قیمتوں پر بھی پڑے گا۔

فی الحال انٹرنیٹ پیکیجز کی قیمتوں میں فوری اضافے کا کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم، اگر نئے انفرااسٹرکچر چارجز برقرار رہتے ہیں تو ٹیلی کام کمپنیوں کے آپریشنل اور نیٹ ورک کی توسیع سے متعلق اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اس صورت میں کمپنیوں پر اضافی مالی دباؤ پڑنے کے باعث مستقبل میں انٹرنیٹ، براڈ بینڈ اور دیگر ٹیلی کام سروسز کی قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔

یعنی موجودہ صورتحال کو فوری طور پر انٹرنیٹ پیکیجز مہنگے ہونے کے بجائے مستقبل میں قیمتوں پر ممکنہ دباؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حتمی اثر کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نئے چارجز برقرار رہتے ہیں یا حکام انہیں نظرثانی کے بعد کم کرتے ہیں۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکسیس پرووائیڈرز ایسوسی ایشن نے پنجاب انتظامیہ اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ میں عائد کیے گئے نظرثانی شدہ ٹیلی کام چارجز کا فوری جائزہ لیا جائے۔

ایسوسی ایشن نے زور دیا ہے کہ چارجز وفاقی حکومت کی منظور شدہ Public and Private Right of Way Policy Directives کے مطابق مقرر کیے جائیں اور ایسے نرخوں سے گریز کیا جائے جو ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کی تنصیب، نیٹ ورک کی توسیع اور نئی سرمایہ کاری میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

فی الحال عام انٹرنیٹ صارفین کے لیے پیکیجز کی قیمتوں میں فوری اضافے کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔ تاہم، اگر ٹیلی کام انفرااسٹرکچر کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا تو مستقبل میں اس کے اثرات انٹرنیٹ پیکیجز، براڈ بینڈ اور دیگر مواصلاتی خدمات کی قیمتوں پر پڑنے کا امکان موجود ہے۔

Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔