امریکہ معاہدے کی پابندی کرے تو ایران بھی عملدرآمد کے لیے تیار ہے، مسعود پزشکیان

ایران کے صدر نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ پر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ امریکہ معاہدے پر واپس آئے تو ایران بھی پاسداری کے لیے تیار ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے منگل کے روز شنگھائی تعاون تنظیم کے 26ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جانے کے 2 ہفتے سے بھی کم عرصے کے اندر امریکہ نے اپنی ذمہ داریوں سے انحراف کرنا شروع کر دیا تھا اور ناجائز مطالبات پیش کرنے شروع کر دیئے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے معاہدے کی اس خلاف ورزی کا ایران کی طرف سے مناسب اور بھرپور جواب دیا گیا۔
صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ اگر امریکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کی گئی اپنے وعدوں پر واپس آتا ہے تو ایران بھی فوری طور پر اپنی ذمہ داریوں پر عملدرآمد شروع کر دے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے برعکس ایران کا عالمی معاہدوں کی پاسداری کا ایک شاندار ریکارڈ موجود ہے اور اس نے ہمیشہ علامی قوانین کے اصولوں کے تحت کام کیا ہے۔
ایرانی صدر نے 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع کی جانے والی غیر قانونی امریکی اور اسرائیلی جارحانہ جنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کا دوران جنگ 200 سے زائد طیارے گرانے، ایک ہزار سے زائد اسرائیلی و امریکی فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ
انہوں نے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور سینیئر فوجی کمانڈروں کو نشانہ بنانا اور ملک پر حملے کرنا اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ایران کی شدید مزاحمت، جوابی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز پر مضبوط گرفت کے باعث 40 دن بعد 8 اپریل کو واشنگٹن اور تل ابیب کو جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
صدر مسعود پزشکیان نے خطے کو درپیش چیلنجز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا اور بالخصوص ترقی پذیر ممالک کو دہشت گردی، انتہا پسندی، منشیات کی اسمگلنگ، سائیبر جرائم اور یکطرفہ اقتصادی پابندیوں جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔
انہوں نے سیکیورٹی اور معاشی ترقی کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا قرار دیتے ہوئے شنگھائی تعاون تنظیم کے لیے 3 اہم معاشی تجاویز پیش کیں۔
انہوں نے تنظیم کا اپنا ایک بینک قائم کرنے، برآمدات اور سرمایہ کاری کا انشورنس یونین بنانے اور ایک توانائی کنسورشیم تشکیل دینے کی سفارش کی۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے خطے میں ابھرتے ہوئے سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے تنظیم کے تحت ایک اسٹریٹجک سیکیورٹی اسٹڈیز سینٹر قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی اور کہا کہ ایران تنظیم کو فعال اور مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










