ایرانی حملوں نے امریکی بحریہ کی سپلائی چین توڑ دی، مشرق وسطیٰ میں موجود جنگی جہاز شدید مشکلات کا شکار

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں سے امریکی سپلائی چین مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے خطے میں موجود امریکی جنگی جہازوں اور اہلکاروں کو ایندھن اور خوراک کی فراہمی شدید متاثر ہوگئی ہے۔
امریکہ کی بحری فوج کو مشرق وسطیٰ میں ایک غیر معمولی اور شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اب معاملہ صرف میزائلوں کے ذخیرے یا ایرانی حملوں کے خطرے تک محدود نہیں رہا، بلکہ اصل مسئلہ خلیج میں موجود 20 کے قریب امریکی جنگی جہازوں اور 20 ہزار بحری اہلکاروں اور میرینز کو محفوظ سپلائی کی فراہمی ہے۔
ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے واشنگٹن نے ان تمام جہازوں اور اہلکاروں کو غیر معینہ مدت کے لیے خطے میں تعينات کر رکھا ہے، لیکن اب ان کا لاجسٹک نیٹ ورک مکمل طور پر بیٹھ چکا ہے۔
اس وقت خطے میں امریکہ کے دو بڑے ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش اور یو ایس ایس جارج واشنگٹن موجود ہیں، جن کے ساتھ 12 ڈسٹرائر جہاز بھی تعینات ہیں اور ان پر تقریباً 3 ہزار 700 اہلکار سوار ہیں۔ یہ تمام جہاز ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی میں مصروف ہیں۔
ان کے علاوہ تین دیگر جنگی جہازوں پر مشتمل ایک ایمفیبیس ریڈی گروپ بھی موجود ہے، جس میں 5 ہزار میرینز سوار ہیں۔ اس طرح کل ملا کر 20 کے قریب جنگی جہاز اور 20 ہزار فوجی خطے میں موجود ہیں۔
اتنی بڑی فورس کو روزانہ کی بنیاد پر خوراک اور ایندھن فراہم کرنا ایک انتہائی دشوار کن کام بن چکا ہے، کیونکہ پوری فلیٹ کو ہر ہفتے 4 لاکھ 20 ہزار سے زائد وقت کا کھانا اور 80 لاکھ گیلن ایندھن درکار ہوتا ہے۔
ایک اکیلے ایئرکرافٹ کیریئر پر 5 ہزار افراد کا عملہ ہوتا ہے، جو دن میں چار بار کھانا کھاتا ہے، اور اگرچہ یہ کیریئر ایٹمی توانائی سے چلتے ہیں، لیکن ان سے اڑنے والے جیٹ طیارے اور ہیلی کاپٹر ہر ہفتے لاکھوں گیلن ایندھن استعمال کر جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران پر امریکی حملوں میں شہداء کی تعداد 18 ہوگئی، 108 سے زائد زخمی
امریکی نیوی نے اس بڑے آپریشن کو چلانے کے لیے دہائیوں کی محنت سے خطے میں رسد اور سپلائی کا ایک مضبوط نظام قائم کیا تھا، لیکن یہ نظام جنگ کے پہلے ہی دن یعنی 28 فروری کو اس وقت مفلوج ہو گیا، جب ایران نے بحرین میں واقع امریکی نیوی کے اہم لاجسٹک بیس پر حملہ کر کے اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
اس کے بعد خطے کی دیگر تمام بندرگاہیں، جہاں امریکی جہازوں کی دیکھ بھال یا رسد کی فراہمی ممکن تھی، ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں آ چکی ہیں، جس کی وجہ سے امریکی بحریہ کا ان تمام بندرگاہوں سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔
علاقائی اڈے تباہ ہونے کے بعد امریکی رسد کے جہازوں کو اب بحر ہند میں واقع ایک چھوٹے سے جزیرے ڈیگو گارسیا کا رخ کرنا پڑ رہا ہے، جو خلیج عمان اور بحیرہ عرب میں موجود امریکی فلیٹ سے تقریباً 2 ہزار 200 میل دور ہے۔
دوسرا واحد راستہ سنگاپور کا ہے، جو 3 ہزار 700 میل دور ہے اور جہاں پہنچنے کے لیے تنگ اور پرہجوم آبنائے ملائکا سے گزرنا پڑتا ہے۔
اتنے طویل فاصلے کی وجہ سے امریکی جنگی جہازوں کو سمندر کے اندر ہی ہر 5 سے 6 دن بعد سپلائی حاصل کرنا پڑتی ہے، جو کہ ایک انتہائی خطرناک عمل ہے۔
اس طریقہ کار میں دونوں جہازوں کو شدید ہواؤں، لہروں اور سمندری بہاؤ کے باوجود گھنٹوں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ 150 فٹ کے فاصلے پر ایک ہی سمت اور رفتار سے چلنا پڑتا ہے۔
اس دوران ایک جہاز سے دوسرے جہاز پر رائفل کے ذریعے رسی پھینکی جاتی ہیں اور اسٹیل کی کیبلز باندھ کر ایندھن اور سامان منتقل کیا جاتا ہے، جبکہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے جالیوں میں اضافی سامان اور پرزے پہنچائے جاتے ہیں۔
ان تمام تعيناتیوں کی کوئی آخری تاریخ مقرر نہیں ہے اور یہ جہاز اس وقت تک خطے میں رہیں گے، جب تک امریکی صدر یا وزیر دفاع کا حکم نہ آ جائے۔
تاہم نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کے پاس اس صورتحال کو برقرار رکھنے کی صلاحیت ختم ہو رہی ہے۔ امریکی نیوی کے پاس کل 11 ایئرکرافٹ کیریئرز ہیں، جن میں سے 4 پہلے ہی ایران کے خلاف جنگ میں لگے ہوئے ہیں، جبکہ باقی میں سے کئی جہاز مرمت کے لیے شپ یارڈز میں موجود ہیں، جو سالوں تک دوبارہ دستیاب نہیں ہو سکتے۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی مثال سامنے ہے، جس نے اپنی 9 ماہ کی تعیناتی کے دوران ایک بار بھی کسی بندرگاہ پر لنگر نہیں ڈالا اور مسلسل سمندر میں رہا، جبکہ معمول کے مطابق ہر ماہ جہازوں کو بندرگاہ پر روکا جاتا ہے تاکہ عملہ آرام کر سکے۔
لنکن کی جگہ 20 اگست کو یو ایس ایس جارج واشنگٹن نے لی اور وہ اس ہفتے تھائی لینڈ کی بندرگاہ پر پہنچا ہے، جہاں عملے کو مختصر وقفہ ملے گا، جس کے بعد وہ اپنے ہوم پورٹ سان ڈیاگو کے لیے روانہ ہو جائے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








