ستمبر 1965 کی جنگ کا تیسرا روز، پاک فوج نے چھمب سیکٹر میں 500 بھارتی فوجی جنگی قیدی بنا لیئے گئے

ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ کے تیسرے روز 3 ستمبر کو پاک فوج نے دشمن پر ہولناک ضربیں لگائیں، چھمب سیکٹر میں بھارت کے 500 جوانوں کو قیدی بنا کر 15 ٹینکوں پر قبضہ کیا گیا۔
ستمبر 1965 کی جنگ کے تیسرے روز یعنی 3 ستمبر کو جنگ پورے شباب پر تھی اور پاکستان کی مسلح افواج اپنے غیور عوام کے ساتھ مل کر بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی تھیں۔
ایک طرف جہاں بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری اپنی قوم پر طاری پاک فضائیہ کے حملوں کا خوف دور کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے تھے، وہی میدان جنگ میں پاک فوج دشمن کو ناکوں چنے چبوا رہی تھی۔
پاک فوج نے چھمب سیکٹر میں زبردست پیش قدمی کرتے ہوئے بھارت کے 500 جوانوں کو جنگی قیدی بنا لیا اور دشمن کے 15 ٹینکوں سمیت بھاری مقدار میں اسلحے پر قبضہ کر لیا۔
جنگ کی اسی کٹھن صورتحال کے دوران پاک فوج کے کمانڈر ان چیف جنرل محمد موسیٰ نے فیلڈ اسپتال کا دورہ کیا اور وہاں زیر علاج بھارتی زخمی سپاہی کی عیادت کی جو پاکستان کے اعلیٰ حربی اخلاق کا ثبوت تھا۔
یہ بھی پڑھیں : یکم ستمبر 1965 کے شہدا کو قوم کا سلام، میجر رضا شاہ اور میجر شاہ نواز کی عظیم قربانی
جنگ کے تیسرے دن ایک انتہائی منفرد اور حیران کن واقعہ اس وقت پیش آیا، جب لیفٹیننٹ کرنل نصیر اللہ بابر غیر دانستہ طور پر کشمیر کے بھمبر سیکٹر میں غلطی سے دشمن کی پوزیشن پر اپنا ہیلی کاپٹر اتارے بیٹھے۔
تاہم انہوں نے شدید ترین خطرے میں بھی بے مثال حاضر دماغی کا مظاہرہ کیا اور صرف ایک پستول کے بل بوتے پر سامنے موجود 30 بھارتی سپاہیوں کو ایسا جھانسہ دیا کہ انہوں نے بنا کسی مقاومت کے ہتھیار ڈال دیئے اور کرنل نصیر اللہ بابر ان تمام 30 بھارتی سپاہیوں کو جنگی قیدی بنا کر لے آئے۔
دوسری جانب پاک فضائیہ نے بھی فضا میں اپنی دھاک بٹھاتے ہوئے بھارت کے 3 جنگی طیارے مار گرائے۔ ان میں سے ایک طیارہ پسرور ایئر فیلڈ پر فلائٹ لیفٹیننٹ حکیم اللہ نے تباہ کیا، جبکہ دوسرا بھارتی طیارہ عباس مرزا نے پسرور ایئر فیلڈ پر لینڈ کروانے میں کامیابی حاصل کی۔ تیسرا طیارہ بھارتی اسکواڈرن لیڈر برج پال سنگھ اڑا رہا تھا، جسے پاک فضائیہ نے گرا کر اسکواڈرن لیڈر کو جنگی قیدی بنا لیا۔
اسی تاریخ ساز دن پاکستان کے عظیم سپوتوں نے اپنی دھرتی کا دفاع کرتے ہوئے جام شہادت بھی نوش کیا۔ آزاد کشمیر رجمنٹ کے میجر امان اللہ نے اپنی کمپنی کی قیادت کرتے ہوئے دشمن پر ایسا بھرپور حملہ کیا کہ گھمسان کی لڑائی کے بعد لالیل اور دیوا کے اہم علاقوں پر کامِیابی سے قبضہ کر لیا اور 3 اور 4 ستمبر کی درمیانی رات دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔
اسی طرح کیپٹن غلام مرتضیٰ کو جوڑیاں اور اکھنور کی جانب پیش قدمی کے دوران خراب ہونے والے ٹینکوں کو ٹھیک کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
دشمن کے توپ خانے اور شدید فائرنگ کا مقابلہ کرتے ہوئے جب ان کا ایک ٹینک آگ کی لپیٹ میں آیا تو کیپٹن غلام مرتضیٰ جیپ سے نکل کر ٹینک کو بچانے کی طرف بڑھے، اس دوران دشمن کی مشین گن کا برسٹ لگنے سے وہ شدید زخمی ہوئے اور 3 ستمبر 1965 کو شہادت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہو گئے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








