سیمنٹ کی قیمت میں کمی ہوگی یا اضافہ؟ ماہرین نے اہم پیشگوئی کردی

ملک میں اگست 2026 کے دوران سیمنٹ کی مجموعی فروخت میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ماہرین نے کم شرح سود، تعمیراتی شعبے کے لیے بجٹ مراعات اور معاشی سرگرمیوں میں متوقع بہتری کے باعث رواں مالی سال کے دوران سیمنٹ کی طلب میں اضافے کی پیشگوئی کی ہے۔
آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (APCMA) کے اعداد و شمار کے مطابق اگست 2026 میں سیمنٹ کی مجموعی فروخت 0.70 فیصد کمی کے بعد 40 لاکھ 39 ہزار ٹن رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ 40 لاکھ 67 ہزار ٹن سیمنٹ فروخت ہوا تھا۔
اگست کے دوران مقامی مارکیٹ میں سیمنٹ کی فروخت بھی 1.07 فیصد کم ہوئی اور 32 لاکھ 83 ہزار ٹن رہی، جو گزشتہ سال اگست میں 33 لاکھ 18 ہزار ٹن تھی۔ اس کے برعکس سیمنٹ کی برآمدات میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی اور اگست میں برآمدات ایک فیصد اضافے کے ساتھ 7 لاکھ 56 ہزار ٹن تک پہنچ گئیں۔
رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ کے دوران سیمنٹ کی مجموعی فروخت میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 85 لاکھ 21 ہزار ٹن تک پہنچ گئی۔ اس عرصے میں مقامی سیمنٹ کی فروخت 8 فیصد بڑھی، تاہم برآمدات 16.69 فیصد کمی کے بعد 14 لاکھ 64 ہزار ٹن رہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کے ابتدائی دو ماہ میں برآمدات 17 لاکھ 57 ہزار ٹن ریکارڈ کی گئی تھیں۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں مقامی ڈسپیچز 8.04 فیصد اضافے کے ساتھ 70.58 لاکھ ٹن ہوگئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں مقامی مارکیٹ میں سیمنٹ کی طلب مجموعی طور پر بہتر رہی ہے۔
سیمنٹ صنعت کی استعداد استعمال کی بات کی جائے تو اگست میں مجموعی کیپیسٹی یوٹیلائزیشن 58 فیصد رہی۔ شمالی علاقوں میں صنعت کی استعداد استعمال 48 فیصد جبکہ جنوبی علاقوں میں نمایاں طور پر زیادہ، یعنی 92 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب اگست 2026 میں 50 کلو سیمنٹ کی اوسط قیمت 1,557 روپے فی بوری رہی، جو سالانہ بنیاد پر تقریباً 6 فیصد زیادہ ہے۔ شمالی علاقوں میں سیمنٹ کی اوسط قیمت 1,564 روپے فی بوری جبکہ جنوبی علاقوں میں 12 فیصد اضافے کے بعد اوسط قیمت 1,545 روپے فی بوری ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق مالی سال 2027 میں معاشی سرگرمیوں میں ممکنہ بہتری، شرح سود میں کمی اور تعمیراتی شعبے کے لیے بجٹ میں دی جانے والی مراعات تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دے سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں سیمنٹ کی طلب میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
ایک حالیہ شعبہ جاتی جائزے میں مالی سال 2027 کے دوران مقامی سیمنٹ کی کھپت میں تقریباً 8 فیصد اضافے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، جبکہ مجموعی فروخت میں سالانہ بنیاد پر 7 سے 8 فیصد اضافے کی پیشگوئی بھی کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق سستی فنانسنگ، آمدنی میں بہتری اور سازگار مالی پالیسی اس اضافے کی اہم وجوہات ہوسکتی ہیں۔
قلیل مدت میں سیمنٹ کی قیمتوں کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں نمایاں کمی کے امکانات محدود ہیں۔ بارشوں اور سیلاب کے باعث شمالی علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیاں متاثر ہونے سے وقتی طور پر طلب پر دباؤ رہ سکتا ہے، تاہم بارشوں کے بعد تعمیر نو کا عمل تیز ہونے کی صورت میں سیمنٹ کی طلب میں دوبارہ نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر شرح سود میں مزید کمی آتی ہے، تعمیراتی فنانسنگ سستی ہوتی ہے اور حکومتی تعمیراتی منصوبوں پر عملدرآمد میں تیزی آتی ہے تو سیمنٹ کی طلب مزید بڑھ سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں قیمتوں میں نمایاں کمی کے بجائے موجودہ سطح برقرار رہنے یا معمولی اضافے کا امکان زیادہ ہے۔
صارفین کے لیے مجموعی صورتحال یہ ہے کہ قلیل مدت میں سیمنٹ کے نرخوں میں بڑی کمی کے واضح آثار نظر نہیں آتے۔ اگر تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی آتی ہے تو طلب بڑھنے کے باعث قیمتیں برقرار رہ سکتی ہیں یا معمولی اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ تاہم شمالی علاقوں میں بارشوں اور سیلاب کے باعث عارضی طور پر طلب کم رہنے کا امکان موجود ہے۔
اس صورتحال میں تعمیر شروع کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والے صارفین کے لیے بڑی قیمت میں کمی کا انتظار کرنا یقینی طور پر فائدہ مند حکمت عملی نہیں کہا جاسکتا، کیونکہ آنے والے مہینوں میں تعمیر نو اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی سیمنٹ کی طلب کو دوبارہ بڑھا سکتی ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











