جمعرات، 10-ستمبر،2026
جمعرات 1448/03/28هـ (10-09-2026م)

ایف آئی اے نے خیبر پختونخوا میں ایک ہزار ارب سے زائد کی ٹیکس چوری کی تحقیقات شروع کردی

10 ستمبر, 2026 15:14

ایف آئی اے نے خیبر پختونخوا اور مالاکنڈ کے ٹیکس فری زونز کی نام پر ایک ہزار 120 ارب روپے کی ٹیکس چوری کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی ٹیم تشکیل دے دی۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سینٹ کی سب کمیٹی برائے داخلہ کی سفارش پر ایک ہزار 120 ارب (1.12 ٹریلین) کی خطیر ٹیکس چوری کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

اس سلسلے میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نارتھ ایف آئی اے کی سربراہی میں 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جس میں ڈائریکٹر اسلام آباد، ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن، ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن اور انسپکٹر شامل ہیں۔

کمپنیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے مالاکنڈ اور خیبر پختونخوا کے ٹیکس فری زونز کے نام پر امپورٹڈ مٹیریل پر سنگین ٹیکس چوری کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹس پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ

ایف آئی اے ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر 108 کمپنیوں کی نشان دہی کی گئی ہے، جو 389 ارب روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث تھیں اور ان تمام کمپنیوں کو نوٹسز جاری کر دیئے گئے ہیں، جبکہ دیگر کمپنیوں کی پڑتال جاری ہے۔

اسی سلسلے میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے خوردنی تیل کی نجی کمپنی میسرز یاسمین نور ایڈبل آئل پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالکان اور مینیجنگ ڈائریکٹر کو قانونی نوٹس جاری کرتے ہوئے کل 10 ستمبر صبح 10 بجے ایف آئی اے اسلام آباد زون میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

کمپنی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو کر فیکٹری کا تمام ریکارڈ، ایس ای سی پی رجسٹریشن دستاویزات، آغازِ فیکٹری سے لے کر اب تک کے تمام درآمدی سامان (جی ڈیز)، بینک اکاؤنٹس، حوالہ ہنڈی یا دیگر ذرائع سے کی گئی ادائیگیوں اور پاک کسٹمز کا ریکارڈ پیش کریں۔

ایف آئی اے کے نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ نوٹس کی تعمیل نہ کرنے کی صورت میں تعزیراتِ پاکستان کے تحت سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔