تیل کمپنیاں بھی اپنے مارجن میں اضافے کے لیے سرگرم، 66 ارب روپے کی فوری ادائیگی کا مطالبہ

ڈیلرز مارجن میں اضافے کے بعد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے اپنے مارجن میں اضافے اور 66 ارب روپے کے زیر التواء کلیمز کی ادائیگی کے لیے اوگرا کو خط لکھ دیا۔
اسلام آباد میں ڈیلرز مارجن میں اضافے کے بعد اب تیل کمپنیاں بھی اپنے مارجن میں اضافے کے لیے سرگرم ہو گئی ہیں اور اس پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔
آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے اوگرا کو خط لکھ کر آگاہ کیا ہے کہ مارچ 2026 سے تیل کمپنیوں کے 66 ارب روپے کے پرائس کلیمز زیر التواء ہیں، جو پیٹرول کے 5 درآمدی کارگوز کے برابر بنتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : 27 ستمبر کا احتجاج، پی ٹی آئی کا خیبرپختونخوا کو مرکز بنانے کا فیصلہ
او سی اے سی کا کہنا ہے کہ اگست میں ڈیلرز مارجن میں 1.34 روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا تھا، جبکہ تیل کمپنیوں کے مارجن میں 1.22 روپے فی لیٹر اضافے پر عمل درآمد تاحال زیر التواء ہے۔
کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں اور خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث سپلائی چین کے مسائل بھی درپیش ہیں، اس لیے اگر مخدوش مالی صورتحال کے باعث سپلائی چین متاثر ہوئی تو اس کی ذمہ داری آئل انڈسٹری پر نہیں ہوگی۔
او سی اے سی کے وفد نے اوگرا چیئرمین سے ملاقات کر کے پینڈنگ کلیمز کا معاملہ فوری حل کرنے کی درخواست کی ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










