چیئرمین ایف بی آر کی ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے وفد سے ایل ٹی او لاہور میں ملاقات

لاہور: وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایات کی روشنی میں شروع کیے گئے اقدام کے تسلسل میں چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) مسٹر راشد محمود لنگڑیال نے ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے صدر مسٹر رانا ثاقب منیر کی قیادت میں وفد سے لارج ٹیکس پیئرز آفس (LTO) لاہور میں ملاقات کی۔ ملاقات میں ٹیکس دہندگان اور ٹیکس پریکٹیشنرز کو سہولت فراہم کرنے، ان کے مسائل کے بروقت حل اور ٹیکس انتظامیہ کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں ممبر (ان لینڈ ریونیو آپریشنز)، ایف بی آر کے سینئر افسران اور ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے شرکت کی۔
ملاقات کے دوران انکم ٹیکس ریٹرنز، سیلز ٹیکس اور ٹیکس فائلنگ و انتظامی امور سے متعلق مختلف معاملات زیرِ بحث آئے۔ چیئرمین ایف بی آر نے وفد کو ایف بی آر کی جانب سے مسلسل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ پیش کیے گئے مسائل کو قانون اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق حل کیا جائے۔ انہوں نے ٹیکس دہندگان اور ٹیکس پریکٹیشنرز کی سہولت کے لیے لاہور میں پی آر اے ایل (PRAL) کا لائژن آفس قائم کرنے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا۔
چیئرمین ایف بی آر نے آر ٹی او-I اور آر ٹی او-II کے دائرۂ اختیار اور کیسز کی منتقلی سے متعلق امور کا بھی نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ان کا جائزہ لے کر مسائل کے حل کی ہدایت کی۔ سمال ٹریڈرز اسکیم اور انکم ٹیکس ریونیو میں اضافے سے متعلق تجاویز بھی زیرِ غور آئیں-
چیئرمین ایف بی آر نے ٹیکس بار ایسوسی ایشن کی جانب سے پیش کی گئی تعمیری تجاویز کو سراہتے ہوئے متعلقہ افسران کو ایف بی آر کے نظام میں موجود تکنیکی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر دور کرنے کا ٹاسک دیا، تاکہ ٹیکس دہندگان اور ٹیکس پریکٹیشنرز کے لیے ٹیکس فائلنگ کا عمل مزید آسان، مؤثر اور بلا تعطل بنایا جا سکے۔
چیئرمین ایف بی آر نے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل روابط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی عملی آراء کو ٹیکس انتظامیہ میں مزید بہتری، ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنے اور مجموعی ٹیکس نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اہمیت دی جائے گی۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









