بدھ، 23-ستمبر،2026
بدھ 1448/04/12هـ (23-09-2026م)

خلیجی ممالک میں پاکستانی ورکرز کیلئے اہم ہدایات، شدید گرمی سے بچاؤ کیلئے احتیاط ضروری

23 ستمبر, 2026 13:22

خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانی ورکرز کے لیے اہم حفاظتی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

 بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ پاکستان نے شدید گرمی اور سخت موسم کے پیش نظر پاکستانی کارکنوں کو احتیاط کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بیورو کے مطابق خلیجی ممالک میں گرمیوں کے دوران درجہ حرارت کئی مرتبہ 48 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کرجاتا ہے۔ کھلے آسمان تلے یا سخت ماحول میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایسی گرمی خاص طور پر مشکل ہوسکتی ہے۔ اس لیے ورکرز کو اپنی صحت اور حفاظت کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔

شدید دھوپ اور گرمی میں زیادہ دیر تک کام کرنے سے جسم پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پانی کی کمی بھی صحت کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ شدید گرمی میں کام کرنے سے گردوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

بیورو نے پاکستانی ورکرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ پیاس لگنے کا انتظار نہ کریں۔ وقفے وقفے سے پانی اور مناسب مشروبات پیتے رہیں۔ جسم میں پانی کی کمی سے بچنے کے لیے گرمی کے دوران زیادہ احتیاط کرنا ضروری ہے۔

دوپہر کے وقت کھلے آسمان تلے کام سے گریز کریں

خلیجی ممالک میں شدید گرمی کے دوران بعض حکومتوں کی جانب سے دوپہر کے اوقات میں کھلے آسمان تلے کام کرنے پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔ پاکستانی ورکرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان پابندیوں پر سختی سے عمل کریں۔

دوپہر کے شدید گرم وقت میں سائے یا ایئرکنڈیشنڈ جگہ پر رہنے کو ترجیح دی جائے۔ اگر کام کی نوعیت اجازت دے تو بھاری جسمانی کام صبح سویرے یا شام کے نسبتاً ٹھنڈے اوقات میں کیا جائے۔

ورکرز کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کارکنوں کی حالت پر نظر رکھیں۔ شدید گرمی میں بعض اوقات متاثرہ شخص خود اپنی حالت کو سمجھ نہیں پاتا۔ اس لیے ساتھیوں کی بروقت مدد اہم ثابت ہوسکتی ہے۔

اگر کسی کارکن کو چکر آنے لگیں، قے محسوس ہو یا نظر دھندلا جائے تو اسے فوری طور پر گرم ماحول سے نکال کر سائے یا ٹھنڈی جگہ منتقل کرنا چاہیے۔ اسے پانی پلانے کے ساتھ فوری طبی امداد کا انتظام بھی کیا جائے۔

بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے پاکستانی ورکرز پر زور دیا ہے کہ شدید گرمی کو معمولی نہ سمجھیں۔ کام کے دوران مناسب وقفہ، پانی کا استعمال اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرکے گرمی سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔

خلیجی ممالک میں روزگار کے لیے موجود پاکستانیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے متعلقہ ادارے اور مقامی حکومت کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔ شدید گرمی میں احتیاط نہ صرف صحت کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ ہنگامی صورتحال سے بھی بچا سکتی ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔