پاکستان نے افغانستان کے اندر 10 مقامات پر ڈرون لانچنگ سائٹس تباہ کیں، ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، عطا تارڑ

عطاءاللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغان سرزمین سے ہونے والی ڈرون گھس بیٹھ کو ناکام بناتے ہوئے افغانستان کے اندر 10 مخصوص مقامات پر جوابی فضائی کارروائی کی ہے۔
پاکستان نے 23 ستمبر 2026 کو افغان سرزمین سے آنے والے ڈرونز کی اشتعال انگیز اور غیر قانونی گھس بیٹھ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے سماجی میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی اور جارحیت کا ایک ناقابل قبول فعل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان نے افغان طالبان حکومت اور اس کے نمائندوں کے سامنے بارہا اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ افغان سرزمین پر دہشت گردوں کے پناہ گاہیں اور ان کے معاون نیٹ ورکس موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : افغان طالبان کی دراندازی ناکام، پاکستانی حدود میں داخل ہونے والے 8 ڈرونز تباہ کردیئے گئے
بیان میں مزید کہا گیا کہ افغان طالبان حکومت ان نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور دہشت گردوں کے خلاف عملی اقدامات کرنے کے بجائے پاکستان کے خلاف دشمنی پر مبنی ڈرون آپریشنز کے ذریعے کشیدگی بڑھانے کا راستہ چن رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے انتہائی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام آنے والے ڈرونز کو ان کے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی ڈیٹیکٹ، ٹریک اور مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا۔
عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ اپنے دفاع کے مروجہ اور خودمختار حق کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان نے افغانستان کے اندر ان 10 مقامات کو درستگی سے نشانہ بنایا، جہاں سے یہ ڈرونز لانچ اور اسٹور کئے گئے تھے۔
وفاقی وزیر نے دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کی ہے کہ پاکستان افغان سرزمین سے ہونے والے کسی بھی حملے کو قطعی برداشت نہیں کرے گا، خواہ وہ دہشت گرد گروہوں کی طرف سے ہوں یا افغان طالبان حکومت کی اپنی جانب سے کسی بھی خلاف ورزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
پاکستان نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر تمام دشمنانہ سرگرمیاں بند کریں اور اپنی عالمی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے افغان سرزمین سے چلنے والے دہشت گردوں کے خلاف موثر اور ناقابل تردید کارروائی کریں۔
حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن اور بات چیت کا حامی ہے، تاہم اسے کمزوری یا لامحدود تحمل ہرگز نہ سمجھا جائے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












