کون سی عام غذا زیادہ کھانے سے بیماریوں اور موت کا خطرہ بڑھتا ہے؟ نئی تحقیق نے سب کے ہوش اڑادیئے

الٹرا پراسیس غذائیں آج کل روزمرہ خوراک کا اہم حصہ بن چکی ہیں۔ ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈ، کیک، مٹھائیاں، نمکین اشیا اور میٹھے مشروبات جیسی چیزیں عام طور پر بڑی تعداد میں استعمال کی جاتی ہیں۔ تاہم نئی تحقیق میں ان غذاؤں کے زیادہ استعمال سے صحت کو لاحق کئی خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
جرنل فیملی میڈیسن اینڈ کمیونٹی ہیلتھ میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ میں الٹرا پراسیس غذاؤں اور مختلف دائمی امراض کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق ان غذاؤں کا زیادہ استعمال دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپے، میٹابولک سینڈروم، ذیابیطس اور بعض دیگر بیماریوں کے زیادہ خطرے سے منسلک پایا گیا۔
الٹرا پراسیس غذائیں کیا ہوتی ہیں؟
الٹرا پراسیس غذائیں وہ مصنوعات ہیں جو تیار ہونے کے دوران کئی مراحل سے گزرتی ہیں۔ ان میں اکثر نمک، چینی، چکنائی اور مختلف مصنوعی اجزا شامل کیے جاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں فائبر اور دیگر مفید غذائی اجزا کی مقدار کم ہوسکتی ہے۔
اس کیٹیگری میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈ، ٹافیاں، کیک، بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، نمکین اشیا، میٹھے مشروبات اور سوڈا شامل ہیں۔ ایسی کئی مصنوعات آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں اور انہیں تیار کرنے میں بھی زیادہ وقت نہیں لگتا۔
88 لاکھ سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ
محققین نے 51 مختلف تحقیقی رپورٹس کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا۔ ان تحقیقات میں مجموعی طور پر 88 لاکھ سے زیادہ افراد شامل تھے۔ ان افراد کی صحت پر 2 سے 32 سال تک نظر رکھی گئی۔
شرکا کی غذائی عادات کے بارے میں معلومات مختلف طریقوں سے حاصل کی گئیں۔ اس میں سوالنامے اور غذائی تاریخ سمیت دیگر ذرائع شامل تھے۔ بعد میں ان معلومات کا مختلف بیماریوں اور صحت کے نتائج سے موازنہ کیا گیا۔
دل اور دیگر بیماریوں کا خطرہ
تحقیق کے نتائج کے مطابق الٹرا پراسیس غذاؤں کے زیادہ استعمال کا تعلق کئی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرے سے سامنے آیا۔ رپورٹ کے مطابق دل کے امراض، جن میں ہارٹ اٹیک اور فالج شامل ہیں، کا خطرہ 24 فیصد تک زیادہ پایا گیا۔
اسی طرح کینسر کا خطرہ 12 فیصد، موٹاپے کا خطرہ 23 فیصد اور میٹابولک سینڈروم یا ذیابیطس کا خطرہ 24 فیصد تک بڑھا ہوا پایا گیا۔ ڈپریشن اور انزائٹی کا خطرہ 27 فیصد، نظام ہاضمہ کے امراض کا خطرہ 31 فیصد اور ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ 11 فیصد زیادہ پایا گیا۔
رپورٹ میں کسی بھی وجہ سے موت کے خطرے میں بھی 18 فیصد اضافے کا تعلق الٹرا پراسیس غذاؤں کے زیادہ استعمال سے ظاہر کیا گیا۔
روزانہ اضافی 100 گرام کا بھی اثر
محققین نے خوراک کی مقدار کے حوالے سے بھی مزید تجزیہ کیا۔ نتائج کے مطابق روزانہ الٹرا پراسیس غذاؤں کی مقدار میں ہر اضافی 100 گرام کے ساتھ امراض قلب کے خطرے میں 14 فیصد مزید اضافہ دیکھا گیا۔
اسی طرح کینسر کے خطرے میں 4 فیصد اور کسی بھی وجہ سے موت کے خطرے میں 3 فیصد مزید اضافے کا تعلق بھی سامنے آیا۔
تاہم محققین نے یہ بھی تسلیم کیا کہ تحقیق کی کچھ حدود ہیں۔ خاص طور پر لوگوں کی جانب سے اپنی غذائی عادات کے بارے میں فراہم کی گئی معلومات پر انحصار کیا گیا۔ اس لیے نتائج کی تشریح کرتے وقت اس پہلو کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
قبل از وقت موت سے بھی تعلق
الٹرا پراسیس غذاؤں اور صحت کے درمیان تعلق پر اس سے پہلے بھی تحقیقات سامنے آچکی ہیں۔ جون 2025 میں ساؤ پاؤلو یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بھی ایسی غذاؤں کے زیادہ استعمال اور کسی بھی وجہ سے قبل از وقت موت کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی تھی۔
اس تحقیق میں 8 ممالک کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا تھا۔ محققین کے مطابق الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال میں ہر 10 فیصد اضافے کے ساتھ کسی بھی وجہ سے موت کے خطرے میں تقریباً 3 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
ماضی کی مختلف تحقیقات میں بھی الٹرا پراسیس غذاؤں کو کینسر، موٹاپے اور ہائی بلڈ پریشر سمیت متعدد بیماریوں کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔
حیاتیاتی عمر بھی متاثر ہوسکتی ہے
الٹرا پراسیس غذاؤں کے حوالے سے ایک اور تحقیق میں حیاتیاتی عمر پر بھی توجہ دی گئی۔ دسمبر 2024 میں موناش یونیورسٹی کی تحقیق میں ایسے افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا جو 20 سے 79 سال کی عمر کے تھے۔
تحقیق میں 16 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا۔ ان کی خوراک، صحت اور طرز زندگی کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج میں الٹرا پراسیس غذاؤں کے زیادہ استعمال اور حیاتیاتی عمر کی رفتار میں اضافے کے درمیان تعلق سامنے آیا۔
حیاتیاتی عمر سے مراد جسم کی وہ عمر ہے جو اس کے جسمانی اور ذہنی افعال کی حالت کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ عمر ہمیشہ انسان کی اصل عمر کے برابر نہیں ہوتی۔ جینیاتی عوامل، طرز زندگی اور خوراک سمیت کئی چیزیں حیاتیاتی عمر پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق الٹرا پراسیس غذاؤں کی مقدار میں ہر 10 فیصد اضافے کے ساتھ حیاتیاتی عمر اور اصل عمر کے درمیان تقریباً 2.4 ماہ کا فرق دیکھا گیا۔ جن افراد کی روزانہ کیلوریز کا 68 سے 100 فیصد حصہ الٹرا پراسیس غذاؤں سے آتا تھا، ان میں حیاتیاتی عمر تیزی سے بڑھنے کا تعلق سامنے آیا۔
خوراک میں احتیاط کیوں ضروری ہے؟
مختلف تحقیقات کے نتائج کو دیکھا جائے تو الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال صحت کے لیے کئی مسائل سے منسلک پایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خوراک میں ایسی مصنوعات کی مقدار کم رکھنا اور تازہ یا کم پراسیس شدہ غذاؤں کو ترجیح دینا صحت مند طرز زندگی کا حصہ ہوسکتا ہے۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












