جمعہ، 12-جون،2026
جمعہ 1447/12/26هـ (12-06-2026م)

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 18 ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش کردیا

12 جون, 2026 10:56

قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 27-2026 کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کردیا۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے بجٹ کی تیاری میں تعاون پر وزیراعظم شہباز شریف، حکومتی اتحادیوں اور بالخصوص بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ ادا کیا۔

وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں ملکی معیشت کے حوالے سے کئی اہم اشاریوں میں بہتری کا دعویٰ کیا۔ ان کے مطابق معیشت کی شرح نمو 4.1 فیصد سے بڑھ کر 6.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ 9 برس کی بلند ترین سطح ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی صنعتوں اور خدمات کے شعبے میں ترقی گزشتہ چار سال کی بلند ترین سطح پر ہے جبکہ فی کس آمدنی بڑھ کر 1901 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

محمد اورنگزیب نے بتایا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں جبکہ ترسیلات زر 41 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افراط زر میں نمایاں کمی آئی ہے اور مہنگائی کی شرح 23.4 فیصد سے کم ہو کر 4.5 فیصد تک آگئی ہے۔ حکومت کو توقع ہے کہ بے روزگاری کی شرح بھی کم ہو کر 4 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے اہم ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی حالات میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔

تنخواہ دار طبقے کے لیے بھی ٹیکس میں نمایاں رعایتوں کا اعلان کیا گیا۔ سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے آمدنی حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج مکمل طور پر ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے کسانوں اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے پانچ نئی مالیاتی اسکیمیں متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان اسکیموں کے تحت تقریباً سات لاکھ پچاس ہزار چھوٹے کسانوں کو 300 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جائیں گے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ اور دیہی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5 ہزار 336 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار 771 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ ان اخراجات میں سے 8 ہزار 54 ارب روپے قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

قومی دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال میں دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کے لیے 71 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے لیے 838 ارب روپے رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

کاروباری شعبے کے لیے بھی کئی اہم مراعات کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت نے 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک سالانہ آمدنی رکھنے والی کمپنیوں پر عائد سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدنی والی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم بینکوں، تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں اور فرٹیلائزر سیکٹر پر موجودہ سرچارج برقرار رکھا جائے گا۔

جائیداد کے شعبے کو متحرک کرنے کے لیے بھی ٹیکسوں میں کمی کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ فائلرز کے لیے جائیداد خریدنے پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد جبکہ فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے تعمیراتی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔

آئی ٹی سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے آئی ٹی برآمدات پر 0.25 فیصد فائنل ٹیکس ریجیم (FTR) کی رعایت مزید تین سال تک جاری رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح برآمدات پر عائد کم از کم ٹیکس اور ایڈوانس انکم ٹیکس کی مجموعی شرح 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ بیرون ملک کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے استعمال پر ودہولڈنگ ٹیکس 0.5 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی اثاثوں پر عائد کیپٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ بیرون ملک اثاثے رکھنے والے پاکستانیوں کو انہیں ظاہر کرنے کی ترغیب مل سکے۔

ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ ریاستی ملکیتی اداروں میں سرمایہ کاری کے لیے 451 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے 365 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ان منصوبوں میں شاہراہوں، ریلوے اور بندرگاہوں کی بہتری شامل ہے۔

توانائی کے شعبے میں داسو، تربیلا توسیعی منصوبے اور مہمند ڈیم کو ترجیح دی گئی ہے۔ جدید توانائی نظام، سیٹ کام اور بیٹری اسٹوریج منصوبوں کے لیے بھی اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں۔ خصوصی اقتصادی زونز میں بجلی کی فراہمی کو ترجیح دی جائے گی جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں آٹھ پن بجلی منصوبوں کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

بجٹ میں بیرون ملک بزنس کلاس سفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دوسری جانب درآمدی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ لگژری درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

چھوٹے تاجروں کے لیے ایک نئی فکسڈ ٹیکس اسکیم بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت 20 کروڑ روپے یا اس سے کم سالانہ فروخت رکھنے والے دکانداروں پر فروخت کا ایک فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔ ٹیکس گوشوارہ جمع کراتے وقت 25 ہزار روپے فیس جمع کرانا ہوگی۔ رجسٹرڈ اور ٹیکس ادا کرنے والے دکانداروں کو "سبز تختی” جاری کی جائے گی۔ وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ ایف بی آر اہلکاروں کو صرف پوچھ گچھ کے لیے دکان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

وزیر خزانہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ سات سال سے زائد پرانے جرمانوں کو مہنگائی کی شرح کے مطابق ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ بجٹ تقریر کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف اپنی نشست سے اٹھ کر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی نشست پر گئے اور بجٹ پیش کرنے پر انہیں مبارکباد دی۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔