پیر، 22-جون،2026
پیر 1448/01/07هـ (22-06-2026م)

آئل کمپنیوں کا نئے پرائسنگ فارمولے پر تحفظات کا اظہار، 104 ارب روپے کے نقصان کا دعویٰ

22 جون, 2026 14:48

پاکستان کی پیٹرولیم انڈسٹری شدید ترین مالی بحران کا شکار ہو کر تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے، جہاں حکومت کے یکطرفہ فیصلوں کے باعث انڈسٹری کو 104 ارب روپے کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے وفاقی وزیر توانائی علی پرویز ملک کو ایک ہنگامی خط لکھا ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملکی پیٹرولیم انڈسٹری اس وقت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔

خط کے مطابق حکومت کے یکطرفہ فیصلوں کی وجہ سے پیٹرولیم انڈسٹری کو اب تک 104 ارب روپے کا بڑا نقصان پہنچ چکا ہے۔ آئل کمپنیوں اور ریفائنریز کو حکومت کے نئے پرائسنگ فارمولے کی وجہ سے شدید مالی مسائل کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے یہ پورا سیکٹر مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔

خط میں واضح مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صارفین کو ریلیف دینے کی قیمت پیٹرولیم انڈسٹری سے کسی صورت وصول نہیں کی جا سکتی۔

یہ بھی پڑھیں : ایران سے تیل اور گیس کی خریداری میں ابھی کئی مسائل کا سامنا ہے، وزیرِ پٹرولیم

ایڈوائزری کونسل نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر یکطرفہ فیصلوں کا یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا، تو غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان سے اپنا پورا سرمایہ نکال لیں گے۔ پیٹرولیم سیکٹر اب مزید کسی بھی قسم کے غیر معمولی نقصانات کو برداشت کرنے کی پوزیشن میں بلکل نہیں ہے۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع کے مارجنز ستمبر 2023 کے بعد سے تاحال نہیں بڑھائے گئے، جبکہ حکومت کے ذمے پرائس ڈیفرینشل کلیمز کی مد میں 66.7 ارب روپے تاحال واجب الادا ہیں، جو ادا نہیں کیے جا رہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اسٹاک ہولڈنگ کی لازمی شرائط کو پورا کرنے کے باوجود انڈسٹری کو مسلسل مالی نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جس سے پیٹرولیم انڈسٹری کے دیوالیہ ہونے کا سنگین خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

کونسل نے وزیر توانائی سے فوری اور ہنگامی ملاقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیمتوں کے تعین کے لیے مشاورت پر مبنی ایک منصفانہ فریم ورک فوری طور پر بنایا جائے۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔