جمعرات، 20-اگست،2026
جمعرات 1448/03/07هـ (20-08-2026م)

حکومت کا آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کیلئے زرعی شعبے پر فکسڈ ٹیکس لگانے کا فیصلہ

20 اگست, 2026 15:41

حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کو راضی کرنے کے لیے زرعی شعبے پر فی ایکڑ 5 ہزار روپے فکسڈ انکم ٹیکس عائد کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں۔

وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کو منانے اور اس کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے ملک کے زرعی شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

حکومت تاجر برادری کی طرز پر اب کاشتکاروں اور بڑے زمینداروں کے لیے بھی ایک آسان فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرانے کی تجویز پر کام کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : حکومت نے 108 ہزار میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی

حکومتی ذرائع کے مطابق اگر 30 ستمبر تک زرعی انکم ٹیکس اور گوشواروں کی جمع آوری کا ہدف پورا نہ ہو سکا تو یکم اکتوبر سے اس فکسڈ ٹیکس تجویز پر کام شروع کر دیا جائے گا۔ اس اسکیم کے تحت حکومت تمام کاشتکاروں اور زمینداروں کو اکتوبر میں فکسڈ ٹیکس اسکیم کا حصہ بنا سکتی ہے۔

اس نئی تجویز کے تحت حکومت زرعی ٹیکس کی مد میں فی ایکڑ 5 ہزار روپے انکم ٹیکس فکسڈ کرنا چاہتی ہے تاکہ تمام چھوٹے بڑے زمینداروں سے آسانی کے ساتھ ٹیکس وصول کیا جا سکے۔ اس اقدام سے حکومتی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی کل معیشت میں زرعی شعبے کا حصہ 24.5 فیصد کی بڑی سطح پر ہونے کے باوجود قومی ٹیکس آمدنی میں اس شعبے کا حصہ صرف 0.3 فیصد ہے، جو انتہائی کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے زرعی شعبے پر ٹیکس لگانے کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔