اقلیتی فیصلہ نہیں ماننا، جو کرنا ہے کرلو، الیکشن وقت پر ہوں گے، پہلے نہیں : مریم نواز

روالپنڈی : لیگی رہنماء کا کہنا ہے کہ جو فیصلے آپ کے برادر جج نہیں مان رہے، قوم کو کہہ رہے ہیں کہ وہ مانو، الیکشن وقت پر ہوں گے، وقت سے پہلے نہیں ہوں گے۔
مسلم لیگ ن کی سینیئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز نے روالپنڈی میں وکلاء کنونشن سے خطاب میں کہا کہ راولپنڈی: کالے کوٹ والے میرا فخر ہیں۔ آج پاکستان بنانے اور بچانے والوں کے پاس آئی ہوں۔ آئین اور قانون کے محافظوں کے پاس آئی ہوں۔ جس جماعت کا اتنا متحرک وکلا ونگ ہوا سے کبھی آنچ نہیں آسکتی۔
انہوں نے کہا کہ کنونشن میں آرہی تھی تو ایک وکیل نے پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا۔ اس پلے کارڈ پر لکھا تھا محبت بھرا ٹرک میری بہن مریم کیلئے۔ ہمارے پاس وہ ٹرک نہیں جو فواد چوہدری کے پاس ہے۔ ہمارے پاس آئین ، قانون ، کالے کوٹ کا ٹرک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کیا کسی عدالت نے کبھی کسی آمر کو نااہل کیا؟ کسی منتخب وزیراعظم نے کبھی مدت پوری نہیں کی۔ آپ کا زور صرف عوام کے وزیراعظم پر چلتا ہے۔ آپ نے ڈکٹیٹر شپ کو ہمیشہ تقویت بخشی۔ جب بھی راستہ روکا جمہوریت کا روکا، منتخب وزیراعظم کا روکا۔
لیگی رہنماء نے کہا کہ عدلیہ کو ایک ڈکٹیٹر کے ظلم سے بچانے کیلئے نواز شریف سامنے آیا۔ جج سیٹھ وقار نے مشرف جیسے ڈکٹیٹر کو سزا سنائی۔ نواز شریف اور مجھ پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔ میری ہر پیشی پر وکلاء کی بڑی تعداد موجود ہوتی تھی۔
لیگی چیف آگنائزر کا کہنا تھا کہ کل چینلز پر ٹکر دیکھ رہی تھی کہ چیف جسٹس جذباتی ہوگئے۔ اس وقت بھی جذباتی ہونا چاہیے تھا، جب ایکسپائر اقامہ پر وزیراعظم کو باہر نکال دیا۔ پوری مسلم لیگ ن کو چن چن کر حق اور سچ بات کرنے پر نااہل کیا گیا۔
لیگی نائب صدر نے کہا کہ ہمارے لوگوں کو کہا گیا پی ٹی آئی جوائن کرو اپنی پارٹی کا ٹکٹ چھوڑ دو۔ نواز شریف کا جیتا ہوا الیکشن عمران خان کی جھولی میں پھینک دیا گیا۔ میں 5 ماہ اڈیالہ اور 5 ماہ نیب میں بے گناہ قید رہی۔ نیب کی قید کے بعد 4 ماہ کوٹ لکھپت جیل میں رکھا، وہ ریفرنس داخل نہیں ہوا۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو آئین اور قانون پر چلنے پر سڑکوں پر رلنے کیلئے چھوڑ دیا۔ یہ کہتے ہیں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ شاید حکومت کے حق میں ہیں۔ جو آئین، قانون کے ساتھ کھڑے ہیں ان کا معیار دیکھ لیں۔ جو جیلیں بھگت کر آئے انہوں نے مقدمات بھی آپکی ناک کے نیچے بھگتے۔
انہوں نے کہا کہ کونسی عدالت ہے جہاں ن لیگ نہ گئی ہو۔ دنیا کی کوئی عدالت نہیں جہاں ن لیگ کا چکر نہیں لگوایا ہو۔ ہم 5 سال تلاشیاں دیتے رہے نکلا پھر بھی اقامہ۔ نیب نے جب ان کی اہلیہ کو بلایا تو کہا گیا وہ کوئی پبلک آفس ہولڈر نہیں۔ میں اور سرینا کون سا پبلک آفس ہولڈر تھیں؟
یہ بھی پڑھیں : الیکشن تمام اسٹیک ہولڈرز کی مرضی اور مشاورت سے ہونے چاہئیں : رانا ثناءاللہ
ان کا کہنا تھا کہ پنکی پیرنی صاحبہ نے کہا ارسلان بیٹا سب کو غداری سے لنک کر دو۔ جب 5 کیرٹ ہیرے کا حساب مانگو تو وہ خاتون خانہ بن جاتی ہے۔ ہمیں کہا جاتا رہا اگر جرم نہیں کیا تو تلاشی کیوں نہیں دیتے۔ خود جب سے مقدمات شروع ہوئے گھر سے نہیں نکلتا۔
لیگی رہنماء نے کہا کہ توہین لگانی ہے تو لگا دو۔ نااہلی سے کس کو ڈراتے ہو جو جھوٹی نااہلی بھگت کر آئی ہے؟ جب عدالت بلاتی ہے تو کونسا بہانہ ہے جو یہ جماعت نہیں کرتی۔ یاد کرو وہ دن جب نواز شریف کو جیل میں ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ آج بھی ہم ڈرے نہیں۔
ن لیگ کی چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے 5 ججز نے کہا عمران خان نے آئین توڑا ہے۔ چیف جسٹس صاحب کیا آئین توڑنا آپ کی نظر میں چھوٹا جرم تھا؟
انہوں نے کہا کہ آپ اس روایت کو فروغ دے رہے ہیں، جھتے، ہتھیار لیکر عدالتوں پر حملہ آور ہوجاؤ۔ پولیس والوں پر پیٹرول بم مارو، تشدد کرو آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ جتھے لیکر سب جاسکتے ہیں مگر ہم تو آئین و قانون کی بات کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب قتل کا کیس آتا ہے اور ثابت بھی ہوجائے اور چھوٹ جائے تو کیا کہیں گے۔ اسے پتہ ہے میرے سہولت کار مجھے بچالیں گے۔ جب لانگ مارچ ہوا تو اسی چیف جسٹس نے کہا تھا عمران شاہراہ دستور پر نہیں آئے گا۔ عمران خان شاہراہ دستور پر آیا تو کہا ہوسکتا ہے اطلا ع نہ ملی ہو۔ اگلے ہی دن عمران خان کنٹینر پر کھڑے ہوکر بولتا ہے آپ کا پیغام مل گیا تھا۔
لیگی رہنماء نے کہا کہ اس لیئے نہیں بلاتے کہ مقدمات اصلی ہیں کہیں لاڈلے کو فارن فنڈنگ ، توشہ خانہ بیٹی کیس میں سزا نہ ہوجائے۔ عمران اور سہولت کاروں نے ٹائم لائن رکھی ہے کہ ستمبر سے پہلے سب ختم کر دو۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ شخص 4 سال دور اقتدار میں انتقام میں اندھا تھا۔ لائنیں مفت آٹا لینے کے لیے لگی ہیں۔ شہبا زشریف پر فخر ہے مالی مشکلات کے باوجود 10 کروڑ عوام کو مفت آٹا دے رہا ہے۔ آٹے کیلئے لائنیں چھوٹی ہیں، انصاف لینے والوں کی لائنیں لمبی ہیں وہاں توجہ دیں۔
انہوں نے کہا کہ بلین ٹری سونامی میں احتساب کے تمام اداروں کو تالے لگا دیئے۔ کے پی میں تو بیڑہ غرق کیا ہی پنجاب میں بھی پنکی اور فرح کو مسلط کردیا۔ نواز شریف سی پیک بناتا رہا اور یہ گوگی پیرنی اکنامک کوریڈور بناتے رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو فیصلہ سپریم کورٹ کی اکثریت نہیں مان رہی ہمیں کہا جارہا ہے مان لو۔ عمران کے پیچھے سے تین چار ججز ہٹادو تو دھڑام سے گرجائے گا۔ عمران خان کو 25 ارکان دینے کے لیے آئین کو توڑا گیا۔ چودھری پرویز الہٰی نے کہا میں تو اسمبلی توڑنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ الیکشن کے حوالے سے کوئی پٹیشن، درخواست نہیں گئی، خود سے ہی سوموٹو لے لیا۔
لیگی رہنماء نے کہا کہ اقلیتی فیصلہ تو فیصلہ ہی نہیں ہوتا، عدلیہ کی تاریخ میں توہین تب ہوئی جب فواد چوہدری نےکہا باہر ٹرک کھڑا ہے، ٹرک کوئی ایسی چیز ہوتا ہے جس کی بات کھلےعام نہیں کی جاتی، سوموٹو تب لینا تھا جب یاسمین راشد نےکہا سپریم کورٹ میں ہمارےبندے ہیں، پرویز الہٰی کی آڈیو پر آپ کو سوموٹو لینا تھا، جب آڈیو لیکس کی بات کی تو ان باتوں کو ٹچ ہی نہیں کیا کہ اس میں کیا ہے، عدلیہ کی عزت فیصلوں میں انصاف سے ہوتی ہے۔
مریم نواز نے سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار، آصف سعید کھوسہ اور سابق آئی ایس آئی چیف فیض حمید پر نام لے کر تنقید کی۔ موجودہ چیف جسٹس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ جو فیصلے آپ کے برادر جج نہیں مان رہے، قوم کو کہہ رہے ہیں کہ وہ مانو، آپ نے ہمنوا، ہم خیال ججز کو بینچ میں ڈال دیا، آپ نے وزیراعظم اور وزیر خزانہ سمیت سب کا رول لے لیا، آپ نے سیاست کرنی ہے تو پھر قانونی فیصلے پارلیمنٹ کرلیتی ہے۔ ہم بھی کہتے ہیں الیکشن وقت پر ہوں گے، وقت سے پہلے نہیں ہوں گے، جس کا ٹریک ریکارڈ صرف انتشار ہے اس کے کہنے پر پاکستان کی کوئی چیز نہیں ہلے گی، جو کرنا ہے کرلو۔
Catch all the بریکنگ نیوز News, پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









