جمعہ، 12-جون،2026
جمعہ 1447/12/26هـ (12-06-2026م)

نواز شریف نے گزشتہ تین دہائیوں میں معیشت کی بہتر کارکردی کا مظاہرہ کیا: بلومبرگ

23 جنوری, 2024 17:38

نواز شریف کے دور میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پاکستانی معیشت نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ مسلم لیگ ن بلومبرگ کی اس رپورٹ کو سوشل میڈیا پر بڑھ چڑھ کر شیئر کر رہی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے مقابلے میں بہترین معاشی اہداف حاصل کیے ہیں۔

بلومبرگ نے مہنگائی، بیروزگاری کے انڈیکس کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا ہے کہ مسلم لیگ ن کے دور میں 5۔14 فیصد، تحریک انصاف حکومت میں 1۔16 فیصد اور پیپلز پارٹی کے ادوار میں 2۔17 فیصد نتیجہ سامنے آتا ہے۔ اس غیر رسمی انڈیکس کے حوالے سے مسلم لیگ ن بہترین معاشی کارکردگی کی حامل قرار دی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تین بار سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جماعت کے تحت پاکستان کی حکومت نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران حریفوں کے مقابلے میں جنوبی ایشیائی ملک کی معیشت کو سنبھالنے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق اکستان کے لیے مشکل مالی حالات کے انڈیکس کا استعمال کرتے ہوئے۔ گزشتہ تین دہائیوں میں نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے چار بار حکومت کی، بھٹو خاندان کے تحت پی پی پی نے تین بار اقتدار سنبھالا ہے، جب کہ عمران خان نے ایک بار، جو کہ اپریل 2022 میں ختم ہونے والی چار سالہ مدت کے لیے عہدے پر تھے جبکہ انہیں پارلیمانی عدم اعتماد ووٹ کے ذریعے اقتدار سے بیدخل کر دیا گیا تھا۔

بلومبرگ اکنامس نے نتائج کی وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ ” 1990 کے بعد سے جب ہر ایک بڑی سیاسی پارٹی نے ملک پر حکمرانی کی تو متعلقہ سالوں کے دوران انڈیکس کی اوسط قدروں کا استعمال کیا گیا، زیادہ قدر شہریوں کے لیے زیادہ معاشی مشکلات کی نشاندہی کرتی ہے۔”

پاکستان کے لیے بلومبرگ اکنامکس مسری (مصائب، مشکلات) انڈیکس کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نے 14.5 فیصد، پاکستان تحریک انصاف کو 16.1 فیصد اور پاکستان پیپلز پارٹی نے 17.2 فیصد اسکور کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: میں یہاں وزیر اعظم بننے نہیں، الیکشن لڑنے آیا ہوں: نواز شریف

بلومبرگ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان نتائج کے باوجود عمران خان اب بھی مقبول ترین سیاستدان ہیں، جن کی مقبولیت کی درجہ بندی 57 فیصد ہے، ایک حالیہ گیلپ رائے شماری کے مطابق، شریف کی ریٹنگ گزشتہ چھ ماہ میں 36 فیصد سے بڑھ کر 52 فیصد ہو گئی ہے۔

بلومبرگ اکنامکس کے انکور شکلا نے رپورٹ میں لکھا، ’’عوام شاید نواز شریف کو شک کا فائدہ دے رہے ہوں‘‘، انہوں نے مزید کہا کہ ’’انتخاب جیتنے والی کسی بھی پارٹی کے لیے آگے کی راہ آسان نہیں ہوگی،‘‘ کیونکہ مہنگائی ریکارڈ بلندی کے قریب ہے اور بے روزگاری بھی بڑھ گئی ہے۔

پاکستان میں افراط زر کی شرح 30 فیصد کے قریب ہے، گزشتہ سال کرنسی ایشیا کی بدترین کارکردگی تھی اور زرمبادلہ کے ذخائر گر گئے تھے۔

ملک اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے مالیاتی بیل آؤٹ پر انحصار کر رہا ہے اور فنڈ کی شرائط کے تحت، نئی حکومت کو ایسی پالیسیاں نافذ کرنے کی ضرورت ہوگی جو ووٹروں میں غیر مقبول ہو، جیسے کہ سبسڈی واپس لینا اور ٹیکس بڑھانا، آئی ایم ایف کو توقع ہے کہ پاکستان کی معیشت گزشتہ سال کے معاہدے کے بعد رواں مالی سال میں 2 فیصد بڑھے گی۔

Catch all the پاکستان News, معیشت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔