2024 دنیا میں انتخابات کا سال، دنیا کی نصف آبادی نئی قیادت کا انتخاب کریگی

سال 2024 دنیا میں انتخابات کا سال ہے، پاکستان، بھارت، امریکہ، روس، یورپی ممالک اور میکسیکو سمیت 500 ممالک میں عوام نئے قائد کا انتخاب کرینگے، چند اہم ممالک پر ایک نظر:
پاکستان
ملک میں 8 فروری کو ہونیوالے انتخابات سیاسی تاریخ کا اہم موڑ ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ ق، جماعت اسلامی، جے یو آئی ایف، اے این پی، ایم کیو ایم، استحکام پارٹی سمیت مختلف جماعتیں انتخابی میدان میں مقابلہ کرینگی۔
کیا نواز شریف تیسری مدت کیلئے وزیر اعظم بن پائینگے؟ پاکستانی سیاسی فضا پر دھند چھائی ہوئی ہے، عمران خان جیل میں اور بلے کا نشان واپس، بلاول بھٹو متحرک، اسٹیبلشمنٹ کیا سوچ رہی ہے، ڈھیر سارے سوال، افواہیں اور خدشات عام انتخابات کی شفافیت کا جانچ رہے ہیں؟
بھارت
نریندر مودی ایک بار پھر تیسری مدت کیلئے وزیر اعظم کے امیدوار ہیں، ایک ارب ہندوستنی اپریل اور مئی میں فیصلہ کرینگے۔ موجودہ صورتحال میں واضح ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو تمام سیاسی مخالفین پر برتری حاصل ہے۔
مسلمانوں سمیت اقلیت پرمظالم، میڈیا پر پابندی، عدلیہ پر دبائو، پارلیمان میں آمریت سمیت مختلف مودی تنقید کا نشانہ ضرور ہیں مگر یہ بھی سچ ہے کہ مودی کے دور میں بھارت دنیا کی 5 معاشی قوتوں میں شامل ہو چکا ہے اور نریندر مودی کا نعرہ ہے کہ اسے تیسری بڑی قوت بنائیں گے۔
امریکہ
امریکی انتخابات پوری دنیا پر اثر انداز ہوتے ہیں، متوقع طور پر موجودہ صدر جو بائیڈن کا مقابلہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہو گا، پوری دنیا کی نگاہیں امریکی انتخابات کی طرف مرکوز ہیں۔ نومبر 2024 میں امریکی عوام 86 سالہ بائیڈن اور 77 سالہ ٹرمپ کے درمیان آئندہ پانچ سال صدارت کا انتخاب کرینگے۔
پول کے مطابق امریکی عوام سمجھتے ہیں کہ بائیڈن بہت ضعیف ہو چکے ہیں، جبکہ ٹرمپ کے حوالے سے ڈھیر سارے سوالیہ نشان موجود ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ مختلف مقدمات کا سامنا بھی کر رہے ہیں مگر یہ مانا جاتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ سوشل میڈیا ایسے ہتھیاروں سے لیس ہیں جو سچی کو جھوٹی، مگر رائے دہندگان کو متاثر کرنے کی قوت رکھتے ہیں۔
روس
صدر پیوٹن چھٹی بار حکمرانی کی امید رکھتے ہیں، مارچ میں ہونیوالے انتخابات میں 24 سالہ حکمرانی کو مزید 6 سال بڑھا سکتے ہیں۔ روس میں انتخابات کی شفافیت پر بہت سارے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں اور موجودہ صورتحال میں ایسی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ پیوٹن منتخب نہ ہو سکیں۔ یوکرین جنگ نے انکی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے۔
یورپ
جون میں ہونیوالے انتخابات میں 400 ملین لوگ یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہونگے۔ یہ انتخابات دائیں بازو کی پاپولسٹ سیاسی جماعتوں کیلئے بڑا امتحان ہو گا۔ دائیں بازو کی قوم پرست جماعتوں کے پاس سخت قوم پرست امیدوار جیسے گیرٹ وائلڈرز جیسے رہنما موجود ہیں جو اسلام کے سخت مخالف مانے جاتے ہیں۔ نومبر میں ہالینڈ انتخابات میں یورپی یونین مخالف فریڈم پارٹی کی فتح اور گزشتہ سال اٹلی میں جاجیا میلوجی کی جیت سیاسی ماحول بتا چکی ہے۔ پولینڈ سے امید ہے جہاں یورپی کونسل کے سابق صدر ڈونلڈ ٹسک مضبوطی سے ای یو حامی پلیٹ فارم پر اقتدار میں آئے ہیں۔
میکسیکو
یہاں انتخابات میں دو خواتین کا مقابلہ ہو رہا ہے، متوقع طور پر میکسیکو میں پہلی بار کوئی خاتون صدر منتخب ہو گی۔ جون میں ہونیوالے انتخابات میں میکسیکو سٹی کی سابق میئر کلاڈیاشین پام مورینا پارٹی اور ژوچیٹت گالویز براڈ فرنٹ فار میکسیکو کی جانب سے مد مقابل ہیں۔
اس کے علاوہ الجیریا، بوٹسوانا، چاڈ، گھان، موریطانیہ، موزمبیق، نمبیا، روانڈا، سینیگال، صومالیہ، جنوی افریقہ، سوڈان سمیت مختلف ممالک میں عام انتخابات 2024 میں منعقد ہونگے۔
یہ بھی پڑھیں: انتخابات میں صرف 10 دن، عوام امید اور غیر یقینی صورتحال کے درمیان موجود
Catch all the پاکستان News, دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












