لاہور ہائیکورٹ میں دو گروپوں میں تصادم، گھونسوں اور تھپڑوں کا آزادانہ استعمال، 8 گرفتار

لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں اقدام قتل کیس کے دو فریقین کے درمیان شدید لڑائی ہوئی، جس کے نتیجے میں پولیس نے آٹھ افراد کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کا احاطہ میدان جنگ بن گیا، جب اقدام قتل کیس کی سماعت کے لیے آئے ہوئے دو مخالف گروپس آپس میں بھڑ گئے۔
سماعت سے قبل ہی عدالت کے باہر دونوں فریقین میں تلخ کلامی ہوئی جو دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھا پائی میں بدل گئی۔ دونوں گروپس کے افراد نے ایک دوسرے پر تھپڑوں اور گھونسوں کا آزادانہ استعمال کیا، جس سے ہائیکورٹ میں افراتفری پھیل گئی۔
یہ بھی پڑھیں : لاہور ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کی کارروائی، انسانی اسمگلنگ کی کوشش ناکام، 5 گرفتار
ہائیکورٹ کے سیکیورٹی اسٹاف نے فوری مداخلت کرتے ہوئے لڑائی میں شامل آٹھ افراد کو حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں اولڈ انار کلی پولیس نے موقع پر پہنچ کر ان افراد کو تھانے منتقل کر دیا، جہاں ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ایس پی سول لائنز چوہدری اثر علی کا کہنا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور تمام عدالتوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی، جب ایک فریق کی ضمانت خارج ہونے کی اطلاع ملی۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










