جمعرات، 16-اپریل،2026
جمعرات 1447/10/28هـ (16-04-2026م)

پیک آوورز کے علاوہ لوڈ شیڈنگ نہیں کی جائے گی ؛ وزیر توانائی اویس لغاری

16 اپریل, 2026 16:56

اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت شدید بجلی بحران کا سامنا ہے اور تقریباً 4000 میگاواٹ شارٹ فال کے باعث لوڈشیڈنگ ناگزیر ہو گئی ہے، جس پر عوام سے معذرت کی جاتی ہے۔

پریس کانفرنس میں اویس احمد خان لغاری نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ایل این جی کی فراہمی بند ہونے سے بجلی کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث توانائی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ ایل این جی پلانٹس کی مجموعی استعداد 6000 میگاواٹ ہے، مگر اس وقت صرف محدود پیداوار حاصل ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کے مطابق پن بجلی کی پیداوار میں بھی نمایاں کمی آئی ہے، جہاں گزشتہ سال اپریل میں 3200 میگاواٹ کے مقابلے میں رواں سال صرف 1600 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ ایل این جی سے بھی پیداوار کم ہو کر تقریباً نصف رہ گئی ہے، جس سے مجموعی شارٹ فال میں اضافہ ہوا۔

وزیر توانائی نے کہا کہ ملک میں بجلی کی طلب میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو چند دنوں میں 9000 میگاواٹ سے بڑھ کر 20000 میگاواٹ تک پہنچ گئی، جس سے سسٹم پر دباؤ بڑھا۔

سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے فرنس آئل سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے، تاہم اس کے باوجود 3000 سے زائد میگاواٹ کی کمی برقرار ہے۔ ہر 500 سے 600 میگاواٹ شارٹ فال پر ایک گھنٹہ لوڈ منیجمنٹ کرنا پڑتی ہے، جس کے باعث بعض علاقوں میں 6 سے 7 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دن کے اوقات میں لوڈشیڈنگ کم رکھی جاتی ہے کیونکہ اس وقت طلب کم اور پیداوار نسبتاً بہتر ہوتی ہے، جبکہ شام کے اوقات میں طلب بڑھنے پر لوڈشیڈنگ میں اضافہ کرنا پڑتا ہے۔

وزیر توانائی نے عوام سے اپیل کی کہ موجودہ حالات میں بجلی کے استعمال میں احتیاط برتی جائے اور غیر ضروری استعمال سے گریز کیا جائے تاکہ نظام پر دباؤ کم کیا جا سکے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔