رحیمہ بی بی کیس نے منظم دہشت گردوں کی بھرتی اور سرحد پار معاونت کے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا

کوئٹہ — حکومتِ بلوچستان نے 18 اپریل 2026 کو ایک اہم پریس بریفنگ کے دوران ایک ایسے کیس کی تفصیلات سامنے رکھیں جس نے دہشت گردی کے منظم نیٹ ورکس، سرحد پار معاونت، اور سماجی استحصال کے پیچیدہ پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا۔ یہ کیس دالبندین سے تعلق رکھنے والے منظور احمد کی اہلیہ، رحیمہ بی بی کے اعترافی بیان پر مبنی ہے، جس نے سیکیورٹی اداروں کو اہم معلومات فراہم کیں۔
حکام کے مطابق، رحیمہ بی بی نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) سے وابستہ ایک خاتون خودکش حملہ آور کی سہولت کاری کی۔ یہ حملہ آور، زرینہ رفیق، بعد ازاں نومبر 2025 میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ایک کیمپ پر حملے میں ملوث پائی گئی۔ اس انکشاف نے واضح کیا کہ دہشت گرد نیٹ ورکس نہ صرف منظم ہیں بلکہ گھریلو سطح تک سرایت کر چکے ہیں۔
گھریلو ماحول کا استعمال
رحیمہ بی بی کے مطابق، زرینہ رفیق کچھ عرصہ ان کے گھر میں مقیم رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عام رہائشی گھروں کو عارضی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، ان کے موبائل نمبر کو بھی شدت پسند عناصر سے رابطے کے لیے استعمال کیا گیا، جو شناخت کے دانستہ غلط استعمال کی نشاندہی کرتا ہے۔
سرحد پار روابط اور تربیت
تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ زرینہ رفیق کو بعد میں افغانستان منتقل کیا گیا، جہاں اسے تربیت دی گئی، اور پھر پاکستان واپس لا کر خودکش حملے میں استعمال کیا گیا۔ یہ پہلو سرحد پار دہشت گرد معاونت کے دیرینہ خدشات کو تقویت دیتا ہے، خاص طور پر ان گروہوں کے حوالے سے جو خطے میں سرگرم ہیں۔
خواتین کا استحصال اور نئی حکمت عملی
محکمہ انسداد دہشت گردی کے جائزوں کے مطابق، بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد گروہ خواتین کو نفسیاتی دباؤ، جبر اور منظم بھرتی کے ذریعے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ رجحان دہشت گردی کی حکمت عملی میں ایک نمایاں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں خواتین کو بھی عملی کارروائیوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔
منظم بھرتی اور بیانیاتی جنگ
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیمیں ایک منظم نظام کے تحت کام کرتی ہیں، جس میں پہلے کمزور افراد کو نظریاتی طور پر متاثر کیا جاتا ہے، اور بعد میں انہیں مختلف گروہوں جیسے بی ایل اے اور بی ایل ایف کے ذریعے تربیت اور تعیناتی دی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، بیانیاتی مہمات کے ذریعے عوامی رائے کو متاثر کرنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، کچھ پلیٹ فارمز اور گروہ ایسے بیانیے کو فروغ دیتے ہیں جو کمزور افراد کو متاثر کرتے ہیں، اور بعد ازاں یہی افراد دہشت گرد نیٹ ورکس کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں۔
“لاپتہ افراد” کا بیانیہ
سیکیورٹی اداروں کے مطابق، جب دہشت گردی سے منسلک افراد کو گرفتار کیا جاتا ہے یا ان کی کارروائیاں ناکام بنائی جاتی ہیں، تو بعض نیٹ ورکس انہیں “لاپتہ افراد” کے طور پر پیش کر کے عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سماجی کمزوریاں بطور ہتھیار
تحقیقات سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورکس سماجی، جذباتی اور خاندانی کمزوریوں کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ بھرتی، پناہ اور نقل و حرکت کو آسان بنایا جا سکے۔
سرحد پار ڈھانچے کا کردار
حکام کے مطابق، افغانستان میں موجود ڈھانچے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے لیے اہم سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔ یہاں تربیت، لاجسٹک سپورٹ اور منصوبہ بندی جیسے عوامل بدستور جاری ہیں، جن میں مختلف گروہ ملوث ہیں۔
ثقافتی اور اخلاقی تناظر
صوبائی نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا بلوچ ثقافتی اقدار کے منافی ہے، جہاں خواتین کے احترام اور تحفظ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ مذہبی اور اخلاقی اصول بھی اس قسم کے استحصال کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔
حکومتی اقدامات
حکومتِ بلوچستان اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ ان اقدامات میں انٹیلی جنس اکٹھا کرنا، فرانزک تجزیہ، اور قانونی کارروائیاں شامل ہیں تاکہ ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
یہ کیس نہ صرف دہشت گردی کے بدلتے ہوئے طریقہ کار کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ سماجی ڈھانچے اور کمزور طبقات کو کس طرح ان نیٹ ورکس کے ذریعے استعمال کیا جا رہا ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











