اتوار، 17-مئی،2026
اتوار 1447/11/30هـ (17-05-2026م)

ٹھل میں پسند کی شادی کی سزا، سرداروں کے فتویٰ پر ڈیڑھ سو گھروں کو آگ لگا دی گئی

17 مئی, 2026 15:27

ٹھل میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کی محبت کی سزا پورے گاؤں کو دے دی گئی، بااثر سرداروں کے فتویٰ کے بعد مشتعل افراد نے گاؤں کے ڈیڑھ سو کے قریب گھروں کو آگ لگا دی۔

سندھ کے علاقے ٹھل کے قریب واقع گاؤں محمد صدیق آرائیں سے انسانیت سوز اور بربریت کی ایک ایسی ہولناک داستان سامنے آئی ہے، جس نے قانون کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گاؤں کے دو نوجوانوں محمد حسن برڑو اور صدرہ چنہ نے اپنی مرضی اور پسند کے مطابق کورٹ میرج یعنی پسند کی شادی کی تھی، لیکن اس محبت کی اتنی ہولناک سزا دی گئی، جو پورے گاؤں کے معصوم لوگوں کو بھگتنی پڑی۔

علاقے کے جرگہ بازوں اور بااثر سرداروں نے اس شادی کو اپنی جھوٹی انا کا مسئلہ بنا کر پسند کی شادی کرنے والے جوڑے، ان کے والد ملھار خان برڑو اور پورے خاندان کے افراد کو سرعام قتل کرنے کا وحشیانہ فتویٰ جاری کر دیا۔

اس فتویٰ کے جاری ہوتے ہی مشتعل اور مسلح افراد نے گاؤں پر دھاوا بول دیا اور غریب مزارعوں اور دیہاتیوں کے لگ بھگ ایک سو پچاس گھروں کو چن چن کر آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں پورا گاؤں راکھ کا ڈھیر بن گیا۔

یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ انتظامیہ کا ایران کیخلاف محدود کارروائی کا امکان، پاکستان نے ثالثی کی کوششیں تیز کردیں

متاثرین اور محمد حسن برڑو کے والد ملھار خان برڑو نے روتے ہوئے میڈیا کے سامنے انکشاف کیا کہ ٹھل پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں ہمارے گھروں کو چن چن کر جلایا جاتا رہا اور پولیس تماشائی بنی کھڑی رہی۔ اگر ٹھل پولیس نے بروقت قدم اٹھایا ہوتا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داری پوری کرتے تو آج ہمارا پورا گاؤں جلنے سے محفوظ رہتا اور معصوم بچے بے گھر نہ ہوتے۔

متاثرہ خاندان نے روتے ہوئے بتایا کہ گھر بار جلانے کے بعد بھی ظلم کا یہ سلسلہ رکا نہیں ہے بلکہ بااثر وڈیروں اور سرداروں کے کارندے ہمیں اور ہمارے بچوں کو ابھی بھی جان سے مارنے کی مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں اور ہمیں شدید خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت مجھے اور میرے بیٹے کو بے دردی سے قتل کر دیا جائے گا۔

اس وقت گاؤں کے سینکڑوں متاثرین جن میں خواتین اور معصوم بچے شامل ہیں، کھلے آسمان تلے شدید گرمی اور سردی میں بے یار و مددگار بیٹھے ہیں، جن کا سب کچھ جل کر خاکستر ہو چکا ہے۔

متاثرین نے پولیس پر سنگین ترین الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ ظلم کرنے والے تمام نامزد ملزمان دن دھاڑے سرعام ہتھیار لہراتے ہوئے گھوم رہے ہیں، لیکن پولیس ان بااثر افراد کو گرفتار کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں، اور حد تو یہ ہے کہ ہم نے تھانے میں جو نام دیے تھے، پولیس نے اثر و رسوخ کے باعث ان بااثر ملزمان کے نام ایف آئی آر میں درج ہی نہیں کیے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس خود ان جابروں کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔