2022 کا ایکٹ کالعدم، وفاقی شرعی عدالت نے خودکشی کی کوشش دوبارہ جرم قرار دے دی

وفاقی شرعی عدالت نے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے خودکشی کی کوشش کو دوبارہ باقاعدہ جرم قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ کی جانب سے 2022 میں کی گئی قانون سازی کو غیر اسلامی قرار دے کر کالعدم کر دیا ہے۔
وفاقی شرعی عدالت نے انسانی زندگی کے تحفظ اور اسلامی قوانین کی بالادستی کے حوالے سے ایک بہت بڑا، تاریخی اور انتہائی اہم فیصلہ جاری کیا ہے۔
فیڈرل شریعت کورٹ نے خودکشی کی کوشش کو ایک بار پھر باقاعدہ قانونی جرم قرار دے دیا ہے۔ عدالت عالیہ نے سابقہ دور حکومت کی جانب سے کی گئی قانون سازی کو مکمل طور پر غیر اسلامی اور شریعت کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا ہے۔
وفاقی شرعی عدالت نے 2022 کے متنازعہ ایکٹ کے خلاف دائر کی گئی تمام آئینی درخواستوں کو باقاعدہ منظور کرتے ہوئے اس ایکٹ کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : وفاقی آئینی عدالت نے کراچی میں رہائشی پلاٹوں کی کمرشل تبدیلی پر پابندی ختم کردی
واضح رہے کہ 2022 میں پارلیمنٹ کی جانب سے کی گئی متنازعہ قانون سازی میں خودکشی کی کوشش کو جرم قرار دینے والی بنیادی قانونی شق کو سرے سے ڈیلیٹ یعنی خارج کر دیا گیا تھا، جس کے بعد خودکشی کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی ممکن نہیں رہی تھی۔
اس قانون سازی کے نتیجے میں ضابطہ فوجداری کا جو اہم سیکشن اور دفعہ اس ایکٹ سے ڈیلیٹ کی گئی تھی، وفاقی شرعی عدالت نے اس پورے سیکشن کو آج کے فیصلے کے ذریعے ملک میں دوبارہ بحال کر دیا ہے۔
فیڈرل شریعت کورٹ نے اس اہم ترین کیس پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جو آج باقاعدہ طور پر کھلی عدالت میں سنایا گیا ہے۔
یہ فیصلہ چیف جسٹس اقبال حمید الرحمن، جسٹس محمد انور اقبال اور جسٹس امیر خان پر مشتمل تین رکنی اعلیٰ بینچ نے متفقہ طور پر سنایا ہے۔
عدالت میں اس اہم اور حساس نوعیت کے کیس کی پیروی اور درخواست گزاروں کی جانب سے دلائل نامور قانون دان ایڈوکیٹ حماد حسن ڈار اور ایڈوکیٹ اعظم ملک نے انتہائی مہارت کے ساتھ کی تھی، جن کے اسلامی اور آئینی دلائل کو درست تسلیم کرتے ہوئے عدالت نے پارلیمنٹ کا بنایا ہوا قانون معطل کر دیا۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








